உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Heatwave: دہلی میں شدید گرمی کی لہر، اورنج الرٹ جاری، پنجاب اور یوپی میں بھی گرمی کی شدت

    کوئی بھی انسان گرمی کی شدت سے ہیٹ ویو سے متاثر ہوسکتا ہے۔

    کوئی بھی انسان گرمی کی شدت سے ہیٹ ویو سے متاثر ہوسکتا ہے۔

    آئی ایم ڈی کے سینئر سائنسدان آر کے جینامنی نے کہا کہ دہلی میں اورنج الرٹ، ہریانہ، پنجاب، دہلی، یوپی اور مدھیہ پردیش، راجستھان کے کچھ حصوں میں 4 جون سے شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ اس درمیان مختلف درجہ حرارت مزید چار دن تک جاری رہے گا۔

    • Share this:
      ہندوستان کے محکمہ موسمیات (India Meteorological Department) نے کہا کہ دہلی اور پڑوسی ریاستوں بشمول پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں شدید گرمی کی لہر کے لیے ’اورینج الرٹ‘ جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی قومی راجدھانی میں پیر کے لیے یلو الرٹ جاری کر دیا تھا کیونکہ کئی علاقوں میں پارہ 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر رہا۔

      آئی ایم ڈی کے سینئر سائنسدان آر کے جینامنی نے کہا کہ دہلی میں اورنج الرٹ، ہریانہ، پنجاب، دہلی، یوپی اور مدھیہ پردیش، راجستھان کے کچھ حصوں میں 4 جون سے شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ اس درمیان مختلف درجہ حرارت مزید چار دن تک جاری رہے گا۔ ہم لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ احتیاط سے باہر نکلیں کیونکہ گرمی بہت شدید ہے۔

      انہوں نے کہا کہ آئی ایم ڈی کے سائنسدان نے یہ بھی کہا کہ مانسون ابھی ملک کے شمالی حصے میں داخل ہونا باقی ہے۔ ہم نگرانی کر رہے ہیں۔ دہلی میں مانسون ابھی دور ہے۔ دریں اثنا دارالحکومت میں گزشتہ دو دنوں سے ہیٹ ویو کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز نجف گڑھ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46.4 ڈگری پر طے ہوا، جو کہ معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے، جس سے یہ دارالحکومت کا گرم ترین مقام بن گیا۔

      انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (IMD) موسم کی وارننگز کے لیے چار رنگین کوڈز استعمال کرتا ہے:

      گرین (کوئی کارروائی کی ضرورت نہیں)

      یلو (دیکھیں اور اپ ڈیٹ رہیں)

      یہ بھی پڑھیں:
      OIC: او آئی سی نے ہندوستان کو بنایا شدید تنقید کا نشانہ، اقوام متحدہ سے ایکشن لینے کی اپیل

      اورینج (تیار رہیں) اور

      ریڈ (کارروائی کریں)۔

      مزید پڑھیں:Remarks on Prophet:خلیجی ممالک کو کیوں اتنی ترجیح دے رہا ہندوستان، جانیے کیا ہیں اقتصادی، سفارتی اور سیاسی نقصانات



      اسکائی میٹ ویدر کے نائب صدر (موسمیاتی تبدیلی اور موسمیات) مہیش پلاوت نے ہیٹ ویو کے اسپیل کو مضبوط مغربی ڈسٹربنس اور مسلسل گرم اور خشک مغربی ہواؤں کی کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک تازہ مغربی ڈسٹربنس پنجاب اور ہریانہ کے اوپر ایک طوفانی گردش کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے ہریانہ، پنجاب، شمالی راجستھان اور مغربی اتر پردیش میں 10 جون سے وقفے وقفے سے مانسون کی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: