உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے کہا : افغانستان کی زمین دہشت گردی کیلئے نہ ہو استعمال ، طالبان رکھے دھیان

    ہندوستان نے کہا : افغانستان کی زمین دہشت گردی کیلئے نہ ہو استعمال ، طالبان رکھے دھیان

    ہندوستان نے کہا : افغانستان کی زمین دہشت گردی کیلئے نہ ہو استعمال ، طالبان رکھے دھیان

    وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر ہندوستانی شہریوں کی واپسی ہوگئی ہے ۔ ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ زیادہ تر ہندوستانی جو واپس آنے چاہتے تھے ، انہیں واپس لے آیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی کچھ لوگ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : افغانستان میں اب طالبان کا قبضہ ہے ۔ طالبان کو قبضہ کئے تقریبا تین ہفتے ہورہے ہیں ، لیکن ابھی تک طالبان کے کسی بھی لیڈر نے حکومت بنانے کے بارے میں اپنے رخ کو واضح نہیں کیا ہے ۔ آج ہندوستانی وزارت خارجہ نے افغانستان کے حالات پر کئی بڑی باتیں کہیں ۔ ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ افغانستان میں کس طرح کی سرکار بنے گی یا پھر اس کا نیچر کیسا ہوگا ، اس پر ہمارے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے ۔

      ارندم باگچی صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دوحہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے افسران اور طالبان افسران کے درمیان کوئی میٹنگ ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہماری طالبان کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں مجھے کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ افغانستان کی زمین کا استعمال کسی بھی طرح دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے نہ ہو ۔

      وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر ہندوستانی شہریوں کی واپسی ہوگئی ہے ۔ ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ زیادہ تر ہندوستانی جو واپس آنے چاہتے تھے ، انہیں واپس لے آیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی کچھ لوگ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں ، لیکن یہ تعداد کتنی ہے اس کی کوئی واضح جانکاری نہیں ہے ۔

      انہوں نے کہا کہ ابھی کابل ہوائی اڈہ بند ہے ۔ جیسے ہی ایئرپورٹ شروع ہوتا ہے وہاں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو نکالنے کا کام پھر سے شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کتنے لوگ واپس آئے ، اس کی یقینی تعداد نہیں ہے ، لیکن زیادہ تر لوگوں کو لایا جاچکا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: