உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra: سانحہ کے بعد بھی 2.19 لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نےامرناتھ یاترا میں کی شرکت، یاتریوں کی حفاظت کا تیقن

    سڑک کے حالات کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے۔

    سڑک کے حالات کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے۔

    عہدیداروں نے بتایا کہ کل 11,434 یاتریوں نے غار میں 'درشن' کیا۔ 4,703 یاتریوں کا ایک اور گروپ آج جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے دو حفاظتی قافلوں میں وادی کے لیے روانہ ہوا۔ ان میں سے 2001 بالتل جا رہے ہیں جبکہ 2702 پہلگام بیس کیمپ جا رہے ہیں۔

    • Share this:
      30 جون کو شروع ہونے کے بعد گزشتہ 21 دنوں کے دوران جاری امرناتھ یاترا (Amarnath Yatra) میں 2.19 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی ہے، جبکہ 4,703 عقیدت مندوں کا ایک اور گروپ جمعرات کو جموں سے وادی کے لیے روانہ ہوا۔ شری امرناتھ جی شرائن بورڈ (SASB) کے عہدیداروں نے بتایا کہ یاترا شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2,19,755 عقیدت مندوں نے یاترا کیا ہے۔

      عہدیداروں نے بتایا کہ کل 11,434 عقیدت مندوں نے غار میں 'درشن' کیا۔ 4,703 یاتریوں کا ایک اور گروپ آج جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے دو حفاظتی قافلوں میں وادی کے لیے روانہ ہوا۔ ان میں سے 2001 افراد بالتل جا رہے ہیں جبکہ 2702 افراد پہلگام بیس کیمپ جا رہے ہیں۔

      بالتل راستہ سے غار مزار تک پہنچنے کے لیے 14 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ وہ درشن کرنے کے بعد اسی دن بیس کیمپ واپس لوٹیں گے۔ روایتی پہلگام راستہ استعمال کرنے والوں کو غار تک پہنچنے کے لیے چار دن تک 48 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

      دونوں راستوں پر یاتریوں کے لیے ہیلی کاپٹر خدمات دستیاب ہیں۔ بدھ کے روز پہلگام کے راستے پنجترنی میں ایک مقامی خیمہ مالک کی قدرتی وجوہات کی وجہ سے موت ہو گئی اور اس سال کی یاترا کے دوران قدرتی وجوہات سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی۔

      مزید پڑھیں: 

      واضـح رہے کہ 8 جولائی کو غار کے قریب آنے والے سیلاب میں کل 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کشمیر ہمالیہ میں سطح سمندر سے 3888 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ غار کے مزار میں برف کا ایک بڑا ڈھانچہ ہے۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ آئس اسٹالگمائٹ کا ڈھانچہ بھگوان شیو کی افسانوی طاقتوں کی علامت ہے۔

      مزید پڑھیں:


      امرناتھ یاترا 30 جون کو شروع ہوئی تھی اور 43 دنوں کے بعد 11 اگست کو رکھشا بندھن کے تہوار کے ساتھ شراون پورنیما پر اختتام پذیر ہوگی۔

       
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: