ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ میں اچانک آتشزدگی ، کیمپ پوری طرح خاکستر 

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ، اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ، سابق کانگریس رکن اسمبلی آصف محمد خان نے اس معاملے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور آگ لگنے کو لے کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ میں اچانک آتشزدگی ، کیمپ پوری طرح خاکستر 
دہلی میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ میں اچانک آتشزدگی ، کیمپ پوری طرح خاکستر 

نئی دہلی : دہلی میں رہ رہے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ میں آتشزدگی کو لے کر تنازع میں اضافہ ہوگیا ہے ، کیونکہ ایک جانب دہلی پولیس آتشزدگی کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے جانچ کر رہی ہے ، تو وہیں دوسری جانب جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ، اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ، سابق کانگریس رکن اسمبلی آصف محمد خان نے اس معاملے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور آگ لگنے کو لے کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے۔


غور طلب ہے کہ شاہین باغ کالندی کنج کے نزدیک کنچن کنج میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تقریبا 53 جھگیاں جل کر خاک ہوگئیں ، جس کے نتیجے میں اس کیمپ میں رہنے والے تقریبا 250 پناہ گزیں آسمان کے نیچے آ گئے۔ رات تقریبا 11 بجے لگی آگ اتنی شدید تھی کہ ایک بھی جھگی نہیں بچ سکی ۔ موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے آگ کو بجھا تو دیا ، لیکن بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا اور سب کچھ جل کر خاک ہو گیا ۔ حالانکہ اس حادثے میں بس یہ غنیمت رہا  کسی بھی  جان نقصان کی خبر نہیں آئی۔


دہلی حکومت  کے تحصیل دار افسر نے بتایا کہ مدد کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ پانی کے ٹینکر لگائے گئے ہیں ۔ سول ڈیفنس کے رضاکار بھی لگائے گئے ہیں ۔ فوری طور پر پر ٹینٹ لگا کر راحت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی سے جڑے افسران موقع پر جگہ کو خالی کرانے کے لئے موجود نظر آئے ۔ محکمہ آبپاشی کے افسران کا کہنا تھا کہ یہ جگہ محکمہ آبپاشی کی ہے اور روہنگیا پناہ گزین یہاں پر غیرقانونی قابضین ہیں ۔


مولانا ارشد مدنی نے آتشزدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا

جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگیوں کے جلنے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ کی ٹیم سے کہا کہ وہ ان کے کھانے پینے کے انتظام کے ساتھ ان کی جھگیاں بنوانے کا فوراً انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگیوں کا افسوسناک امر ہے۔ اس سے پہلے بھی ان کی جھگیاں جلائی گئی تھیں ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ آخر جھگیاں کیسے جلیں ۔

مولانامدنی کی ہدایت پر مفتی عبدالرازق مظاہری جنرل سکریٹری جمعیۃ دہلی کی سربراہی میں ایک وفد نے حالات کا جائزہ لیا ۔ اس کے بعدوفدنے  علاقے کے ایس ڈی ایم،ایس ایچ اواور یوپی ایریگیشن کے جے ای سے موقع پر ہی بات چیت کی اور متاثرین کے لئے مکمل تعاون کا مطالبہ کیا، جس پر ایس ڈی ایم نے فوری طور پر ٹینٹ لگا کر پناہ گزینوں کو اس میں رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور اپنے ماتحت افسران کو فوری طور پر اس کے احکامات بھی جاری کردئے ۔ نیز ایس ایچ او نے بھی ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شاہین باغ کالندی کنج کے نزدیک کنچن کنج میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تقریبا 53 جھگیاں جل کر خاک ہوگئیں ۔
شاہین باغ کالندی کنج کے نزدیک کنچن کنج میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تقریبا 53 جھگیاں جل کر خاک ہوگئیں ۔


دوسری طرف جمعیۃ علمائے ہند نے پریس ریلیز میں دعوی کیا کہ وہاں پر موجود یوپی ایریگشن کے افسران سے جب ہم نے تعاون کا مطالبہ کیا ۔ تو ان کا جواب چونکانے والا تھا ۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ان پریشان حال لوگوں کا تعاون کیا جائے ، لیکن ہم مجبور ہیں ہماری نوکری کا معاملہ ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے آتشزدگی پر اٹھائے سوال

راحت کا سامان لے کر کیمپ پہنچے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے آتشزدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے اور یہ تحقیقات کا معاملہ ہے ۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ اس سے قبل  بھی ان لوگوں کی جھگیوں میں آگ لگ گئی تھی ۔ آخر بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ کل بھی کچھ لوگ ان لوگوں کو دھمکی دے کر گئے تھے کہ اگر جگہ خالی نہیں کی گئی تو برا انجام ہوگا ، اس لیے اس معاملہ کی دہلی پولیس اور ایس ڈی ایم  کو تحقیقات کرانی چاہئے ۔

آتشزدگی کو لے کر اقوام متحدہ مداخلت کرے : آصف محمد خان

پناہ گزینوں کی مدد کے لیے آگے آنے والوں میں سابق رکن اسمبلی کانگریس آصف محمد خان بھی پیش پیش رہے ۔ آصف محمد خان نے آگ لگنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل بھی اتر پردیش کے افسر زمین کو خالی کرانے کے لئے لیے آئے ہوئے تھے تھے اور دھمکی دے کر گئے تھے کہ اگر زمین خالی نہیں کی گئی تو برا انجام ہوگا ۔ کیونکہ یہ تمام پناہ گزین اقوام متحدہ کے ذریعے ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں ، اس لیے اس معاملے میں اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہئے اور مرکزی حکومت سے اس معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کروانی چاہئے ۔

اترپردیش محکمہ سینچائی محکمہ کی جگہ میں بنا ہے پناہ گزینوں کا کیمپ

2010 میں جب میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے تھے تو اس وقت بڑی تعداد میں روہنگیا ہندوستان پناہ گزین کے طور پر آئے تھے ۔ ان پناہ گزینوں میں سے کچھ لوگ کالندی کنج علاقے میں رہنے لگے تھے ۔ 2012 میں بھی کئی لوگ ہندوستان پناہ لینے کے لیے آئے تھے ۔ اقوام متحدہ کے ذریعے ان پناہ گزینوں کو پناہ گزیں کا شناختی کارڈ مہیا کرایا گیا ہے ۔ اترپردیش کے محکمہ آبپاشی کی زمین پر رہنے سے قبل یے لوگ زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے پلاٹ میں رہے تھے ۔ لیکن آج وہاں پر آگ لگ گئی تو ان لوگوں کو محکمہ آبپاشی کی کی جگہ پر منتقل کر دیا گیا ۔

اس وقت اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور آکھلیش  یادو بر سر اقتدار تھے ، لیکن چار سال پہلے اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی برسر اقتدار آ گئی اور یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیراعلی ہیں ۔ اسی وقت سے یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ محکمہ آبپاشی کی زمین کو  پناہ گزینوں سے خالی کرا لیا جائے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 13, 2021 09:36 PM IST