உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہنے پر اویسی نے لوک سبھا میں پیش کی یہ تجویز

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی: فائل فوٹو۔

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی: فائل فوٹو۔

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے منگل کو لوک سبھا میں ایک تجویز پیش کی کہ مرکزی حکومت ایک ایسا قانون لائے جس میں کسی ہندوستانی مسلمان کو پاکستانی کہنے پر تین سال قید کی سزا ہو۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے منگل کو لوک سبھا میں ایک تجویز پیش کی کہ مرکزی حکومت ایک ایسا قانون لائے جس میں کسی ہندوستانی مسلمان کو پاکستانی کہنے پر تین سال قید کی سزا ہو۔ بتا دیں کہ لوک سبھا میں ہو رہی بحث کے دوران اویسی نے یہ بات کہی۔ ذرائع کے مطابق، انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاق بل خواتین مخالف ہے۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کو مسترد کردیا ہے۔

      رکن پارلیمنٹ اویسی نے پہلے بھی بیان دیا ہے کہ قانون سماجی برائیوں کا حل نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعوی کیا کہ تین طلاق بل لانا مسلم مردوں کو جیل بھیجنے کی ایک چال ہے۔

      غور طلب ہے کہ تحفظ شریعت کے موضوع پر ایک عوامی جلسے میں اویسی نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا، 'قانون لانے کے بعد کیا تین طلاق رک جائے گا۔' انہوں نے کہا کہ جہیز قتل اور خواتین کے خلاف ہونے والے دیگر جرائم تب بھی نہیں رک رہے جب ان غلط کاموں کے خلاف خصوصی قانون بنائے گئے ہیں۔

      اویسی نے کہا، سال "2005 سے 2015 کے درمیان ہندوستان میں 80000 سے زائد جہیز قتل کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جہیز کے لئے ہر روز 22 خواتین کو مارا جاتا ہے اور نربھیا واقعہ کے بعد بھی عصمت دری کے معاملات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ قانون ان سب کا جواب نہیں ہے۔ '
      First published: