உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کے بیان پراپوزیشن حملہ آور، مودی سے پوچھا- اب بتاو ٹکڑے ٹکرے گینگ کون ہے؟

    عمران خان اورنریندر مودی: فائل فوٹو

    عمران خان اورنریندر مودی: فائل فوٹو

    رندیپ سرجے والا، اروند کیجریوال، محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ نےسوال اٹھایا ہے۔ کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ہندوستانیوں کوجاننا چہائے کہ اگرمودی الیکشن جیتتے ہیں توپاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے۔

    • Share this:
      پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بدھ کوکہا کہ اگرہندوستان کےلوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو جیت ملتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات زیادہ ہیں۔ عمران خان کےاس بیان کےبعد اپوزیشن پارٹیوں کووزیراعظم نریندرمودی اوربی جے پی پرحملہ بولنے کا موقع مل گیا ہے۔

      عمران خان کے بیان کولےکرپی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نےکہا ’’بھکت‘ اپنا سرکھجلائیں گےاورسوچیں گےکہ انہیں عمران خان کی تعریف کرنی چاہئے یا نہیں‘‘۔ وہیں نیشنل کانفرنس کےنائب صدرعمرعبداللہ نے پوچھا کہ اگرپاکستان کے وزیراعظم نے راہل گاندھی کو ہندوستان کےاگلے وزیراعظم کے طورپرحمایت دی تووہ کیسے ردعمل دیں گے؟

      کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے بھی بی جے پی اورمودی پرچٹکی لی اورکہا ’’پاکستان نےآفیشیل طورپرمودی سےاتحاد کرلیا ہے‘‘۔ پاکستان کے وزیراعظم نےکہا ’’مودی کے لئے ووٹ پاکستان کے لئے ووٹ ہے۔ مودی جی پہلے نوازشریف سے پیاراوراب عمران خان آپ کا چہیتا یار۔ ڈھول کی پول کھل گئی ہے‘‘۔

      دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نےبھی اس موقع پراپنی خاموشی توڑتے ہوئے ٹوئٹ کرکے بی جے پی کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستانیوں کو جاننا چہائے کہ اگرمودی الیکشن جیتتے ہیں تو پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان میں شورمچ گیا ہے کہ نریندرمودی ایک بارپھرسے۔  پارٹی کے ترجمان اورراجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی اس پرسوال اٹھایا ہے۔ 





      بتادیں کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بدھ کوکہا ہےکہ اگروزیراعظم مودی کی پارٹی بی جے پی لوک سبھا الیکشن میں جیتتی ہے تویہ پرامن بات چیت کے لئے اچھا ہوگا۔ عمران خان نےکہا کہ ان الیکشن میں اگرہندوستان میں اپوزیشن پارٹی کانگریس کی قیادت والی حکومت اقتدارمیں آتی ہےتووہ پاکستان کےساتھ سمجھوتہ کرنےسے بھی پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے بیرون ممالک کے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ اگردائیں بازوکی پارٹی بی جے پی جیتتی ہے،توکشمیرمیں کسی طرح کے معاہدے کےآثارہوسکتے ہیں۔
      First published: