ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مشرقی لداخ میں چین کی حرکتوں کا تھا پتہ، لیکن نہیں بھانپ سکے: فوجی سربراہ

مشرقی لداخ میں جاری تعطل کے درمیان ہندستانی فوجی سربراہ ایم ایم نروانے نے چین اور پاکستان کو جواب دیا ہے۔ نروانے نے کہا ہے کہ ملک کی فوج نہ صرف مشرقی لداخ بلکہ شمالی بارڈر پر بھی ہائی الرٹ موڈ میں ہے۔ ہمارے جوان ہر چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ صحیح وقت پر جواب دیا جائے گا۔

  • Share this:
مشرقی لداخ میں چین کی حرکتوں کا تھا پتہ، لیکن نہیں بھانپ سکے: فوجی سربراہ
فوجی سربراہ منوج مکند نروانے

نئی دہلی۔ مشرقی لداخ (Ladakh Border Tension) میں جاری تعطل کے درمیان ہندستانی فوجی (Indian Army) سربراہ ایم ایم نروانے (General Manoj Mukund Naravane) نے چین اور پاکستان کو جواب دیا ہے۔ نروانے نے کہا ہے کہ ملک کی فوج نہ صرف مشرقی لداخ بلکہ شمالی بارڈر پر بھی ہائی الرٹ موڈ میں ہے۔ ہمارے جوان ہر چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ صحیح وقت پر جواب دیا جائے گا۔ گلوان وادی میں ہوئے جھڑپ پر فوجی سربراہ نے کہا کہ ہم چین کی حرکتوں سے واقف تھے، مگر اس کی نیت کو بھانپ نہ سکے۔


مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں ہوئے پرتشدد جھڑپ پر فوجی سربراہ نروانے نے کہا '' یہ چین کی طرف سے کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ ہر سال چینی فوجی ٹریننگ کے لئے آتے ہیں اور ہمیں پتہ تھا کہ یہ کن کن جگہوں پر آتے تھے۔ اس پر ہماری نظر بھی تھی۔ فرسٹ موور ایڈوانٹج چین کو تھا جس کا کسی کو علم نہیں تھا'۔ نروانے نے کہا ' ہمیں مشرقی لداخ میں چین کی حرکتوں کا پتہ تھا، مگر اس کی نیت نہیں بھانپ سکے۔ چین ایسا کرے گا ہم نے سوچا نہ تھا'۔



فوجی سربراہ منوج مکند نروانے نے سالانہ پریس کانفرنس میں یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلا سال چیلنجوں سے بھرا تھا۔ سرحد پر کشیدگی تھی اور کورونا انفیکشن کا بھی خطرہ تھا۔ لیکن فوج نے کامیابی سے اس کا سامنا کیا۔

لداخ میں فوج نے سردیوں کو لے کر پوری تیاری کی

لداخ اور شمالی سرحد کی تیاریوں کے بارے میں بتاتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا کہ فوج نے سردیوں کو لے کر پوری تیاری کی ہے۔ لداخ کی صورت حال کی جانکاری دیتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا کہ ہمیں پرامن حل کی امید ہے، لیکن ہم کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے لئے ہندستان کی سبھی لاجسٹک تیاری مکمل ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 12, 2021 03:04 PM IST