உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India Pak Trade:پاکستان نے دیا ہندوستان سے تجارتی رشتے معمول پر لانے کا اشارہ، کیا سیاسی تعلقات بھی ہوں گے بحال؟

    کیا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور تجارتی رشتے ہوں گے بحال؟

    کیا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور تجارتی رشتے ہوں گے بحال؟

    دسمبر 2015 میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو معمول پر لانے کے لیے کمپوزٹ ڈائیلاگ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن 2016 میں ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کے بعد دو طرفہ تعلقات کی ٹرین پٹڑی سے اتر گئی۔

    • Share this:
      India Pak Trade:پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان نے نئی دہلی میں واقع ہائی کمیشن میں پانچ سال بعد وزیر تجارت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں قمر زمان کی اس عہدے پر تقرری کی تجویز کی منظوری دی گئی۔

      ماہرین کا خیال ہے کہ معاشی بحران کا شکار پاکستان یہ قدم ہندوستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کو آگے بڑھانے کے مقصد سے اٹھا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارت تجارت نے اس کی تردید کی ہے۔ پاکستان کی وزارت تجارت نے کہا کہ پاکستان کے 57 تجارتی مشن ہندوستان سمیت 46 ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں وزیر (تجارت اور سرمایہ کاری) کا عہدہ پچھلے 20 سالوں سے قائم ہے اور اس تقرری کو ہندوستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      الجزیرہ کی رپورٹر کی موت پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے لیا ہندوستان کا نام

      بھرتی کا عمل دسمبر 2021 میں شروع کیا گیا تھا۔ پچھلی حکومت نے ایسے عہدوں پر 15 افراد کی تقرری کی سفارش کی تھی جسے موجودہ حکومت نے منظور کر لیا ہے۔ پاکستان کے اس فیصلے پر وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے اپنی جانب سے پاکستان کے ساتھ تجارت بند نہیں کی۔ اس تناظر میں اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ خود پاکستان نے اٹھائے ہیں۔ ایسی صورت حال میں، دو طرفہ کاروبار کو آگے بڑھانے کا فیصلہ پاکستان کو ہی کرنا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا- لوگوں کے دلوں میں زہر گھول رہے ہیں عمران خان

      قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان ہندوستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کے حوالے سے ہمیشہ مخمصے کا شکار رہی ہے۔ سال 2012 میں ہندوستان کو کاروبار کے لیے ترجیحی ملک قرار دینے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ بعد میں ملتوی کر دیا گیا۔ دسمبر 2015 میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو معمول پر لانے کے لیے کمپوزٹ ڈائیلاگ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن 2016 میں ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کے بعد دو طرفہ تعلقات کی ٹرین پٹڑی سے اتر گئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: