ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی حکومت کی انکوائری کمیٹی نے ڈي ڈي سي اے کو معطل کرنے کی سفارش کی

نئی دہلی: دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کے لئے تشکیل دہلی حکومت کی تین رکنی کمیٹی نے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ سے ڈي ڈي سي اے کو فوری طور پر معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 17, 2015 07:26 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہلی حکومت کی انکوائری کمیٹی نے ڈي ڈي سي اے کو معطل کرنے کی سفارش کی
نئی دہلی: دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کے لئے تشکیل دہلی حکومت کی تین رکنی کمیٹی نے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ سے ڈي ڈي سي اے کو فوری طور پر معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔

نئی دہلی: دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کے لئے تشکیل دہلی حکومت کی تین رکنی کمیٹی نے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ سے ڈي ڈي سي اے کو فوری طور پر معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔


دہلی حکومت نے گزشتہ ہفتے ڈي ڈي سي اے میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی بنائی تھی جسے 48 گھنٹے کے اندر اندر اپنی رپورٹ سونپنے کے لئے کہا گیا تھا۔اس کمیٹی نے ڈي ڈ ي سي اے میں بدعنوانی کو دیکھتے ہوئے بی سی سی آئی سے ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن کو فوری طور پر معطل کرنے اور اسے پیشہ ورانہ کھلاڑیوں کی طرف سے کام کرنے کی سفارش کی ہے۔


ڈي ڈي سي اے کو لے کر یہ تنازعہ ایسے وقت اٹھا جب بی سی سی آئی نے اسے ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا چوتھا اور آخری میچ کرنے کے لئے فیروز شاہ کوٹلہ میدان کو تیار کرنے کے لئے آخری تاریخ مقرر کی ہے۔فریڈم سیریز کا یہ میچ تین دسمبر سے شروع ہونا ہے۔لیکن ابھی تک ڈي ڈي سي اے کو میچ کو لے کر دہلی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی یقین دہانی نہیں ملی ہے۔


سابق کرکٹرز بشن سنگھ بیدی اور کیرتی آزاد نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال سے مل کر اس معاملے میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد دہلی حکومت نے 12 نومبر کو انکوائری کمیٹی مقرر کی تھی جس میں کھیل سیکرٹری، شہری ترقی محکمہ کے سیکرٹری اور دہلی حکومت کے قانونی مشیر کومقرر کیا گیا تھا۔


انکوائری کمیٹی نے ڈي ڈي سي اے کے اعلی حکام سمیت گزشتہ ہفتے اس سلسلے میں ناگپور میں بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر سے بھی ملاقات کی تھی۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صاف کیا ہے کہ دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن میں شفافیت کی ذمہ داری ہندستانی بورڈ پر بھی ہے۔ تحقیقات سے منسلک دہلی حکومت کے افسر نے كرك انفو سے کہا کہ بی سی سی آئی کی ڈي ڈي سي اے کے معاملات میں اپنی آنکھیں موند لینا درست نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ ڈي ڈي سي اے ایک تسلیم شدہ ادارہ ہے اور اس لئے اس کو معطل کرنے کا کام بھی بی سی سی آئی کا ہے۔ڈي ڈي سي اے کی اندرونی سرگرمیوں کو پیشہ ورانہ کھلاڑیوں کو چلانا چاہیے اور اسے حق اطلاعات قانون کے تحت بھی لایا جانا چاہیے۔


تاہم انہوں نے صاف کیا کہ فریڈم سیریز کے میچ کے سلسلے میں کمیٹی نے کوئی بحث نہیں کی ہے۔لیکن حال ہی میں ڈي ڈي سي اے کے صدر چیتن چوہان، خزانچی رویندر منچندا اور معطل صدر پی آر بنسل نے بھی میڈیا کو کہا تھا کہ وزیر اعلی کجریوال نے ہندستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ٹیسٹ کو لے کر مدد کا بھروسہ ظاہر کیا ہے۔


دوسری طرف ڈي ڈي سي اے دلیل دے رہا ہے کہ اس وقت کے دوران ٹیکس میں چھوٹ ملی تھی اور ان پر دہلی حکومت کا صرف پانچ کروڑ روپے ہی واجب ہے۔لیکن حکومت اس سے اتفاق نہیں رکھتی ہے۔افسر نے کہا کہ ڈي ڈي سي اے ٹیکس کے معاملے میں جھوٹ بول رہا ہے۔دہلی حکومت نے اس معاملے میں مداخلت نہیں کی ہے۔


انکوائری کمیٹی نے دعوی کیا ہے کہ وہ اپنی سفارشات جسٹس آرایم لوڈھا کمیٹی کو بھی بھیجیں گے جسے سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے آئین میں تبدیلی کے لیے سفارشات دینے کے لئے مقرر کیا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے کھیل کو لے کر صاف اصول بنانے کی بھی سفارش دی ہے۔


ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کھیلوں میں پیشہ ور افراد کی طرف سے ہی کام کیا جانا چاہیے تاکہ اس میں اقربا پروری، حکام کی مداخلت کو کم کیا جا سکے۔افسر کے مطابق اس رپورٹ کو دہلی حکومت کو پیش کر دیا گیا ہے لیکن دہلی میں تعطیل ہونے کی وجہ سے اس پر بدھ کو نوٹس لیا جائے گا۔

First published: Nov 17, 2015 07:25 PM IST