ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پانی پت: اقلیتی فرقہ کے نوجوان کا الزام۔ بنوا رکھا تھا 786 لکھا ٹیٹو تو لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دئیے

اکرام نے آگے بتایا کہ اس کا بھائی پارک میں مار کھانے کے بعد بیہوش ہو گیا۔ بعد میں پانی کی تلاش میں وہ پاس کے ایک گھر میں گیا۔ اتفاق سے اس گھر میں وہ دو لوگ ہی رہتے تھے جنہوں نے تھوڑی دیر پہلے پارک میں اس کی پٹائی کی تھی۔ اکرام نے کہا ' وہ اسے گھر کے اندر کھینچ لے گئے اور اسے بری طرح سے پیٹا۔

  • Share this:
پانی پت: اقلیتی فرقہ کے نوجوان کا الزام۔ بنوا رکھا تھا 786 لکھا ٹیٹو تو لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دئیے
اسپتال میں علاج کراتے ہوئے اخلاق

سہارنپور۔ ہریانہ کے پانی پت (Panipat) سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں اکرام سلمانی نام کے ایک نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بھائی کا ہاتھ اس لئے کاٹ (Hand Chopped Off) دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ہاتھوں پر 786 لکھا ہوا ٹیٹو بنوا رکھا تھا۔ حالانکہ مقامی پولیس نے اس واقعہ کے پیچھے فرقہ وارانہ تشدد کے زاویہ کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اخلاق نام کے اس شخص پر جسمانی استحصال کا الزام لگا تھا۔ اسی دوران فرار ہونے کے چکر میں اس کا ہاتھ کٹ گیا۔



پہلے پارک میں پیٹا


اکرام کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کا دایاں ہاتھ 23 اگست کو کاٹ دیا گیا۔ انہوں نے پورے واقعہ کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ ' ہمارا گھر سہارنپور سے 33 کلومیٹر دور نانوٹ میں ہے۔ میرا بھائی کام کی تلاش میں پانی پت جا رہا تھا۔ کشن پور کے پاس پہنچتے ہی اندھیرا ہو گیا۔ رہنے کے لئے اس کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس لئے اس نے وہاں کے ایک پارک میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ دو لوگوں نے نام جاننے کے بعد اسے پارک میں سونے نہیں دیا۔ ان دونوں نے میرے بھائی کی پٹائی کر دی۔

ہاتھ کاٹ کر پھینک دیا


اکرام نے آگے بتایا کہ اس کا بھائی پارک میں مار کھانے کے بعد بیہوش ہو گیا۔ بعد میں پانی کی تلاش میں وہ پاس کے ایک گھر میں گیا۔ اتفاق سے اس گھر میں وہ دو لوگ ہی رہتے تھے جنہوں نے تھوڑی دیر پہلے پارک میں اس کی پٹائی کی تھی۔ اکرام نے کہا ' وہ اسے گھر کے اندر کھینچ لے گئے اور اسے بری طرح سے پیٹا۔ گھر میں کل 6 لوگ تھے جس میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ اسے لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور انہوں نے اس کے سر پر پتھر سے حملہ کیا۔ اس کے سر سے خون بہنے لگا، لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں تھا۔ وہاں موجود لوگوں نے میرے بھائی کے ہاتھ پر 786 کا ٹیٹو دیکھا اور ہاتھوں کو کاٹنے کے لئے کہہ دیا۔ پھر ہاتھ کاٹ کر ان سب نے میرے بھائی کو پاس میں ہی کشن پورا ریلوے پھاٹک کے پاس پھینک دیا۔ انہیں لگا کہ وہ مر گیا ہے۔ بعد میں صبح جب ہوش آیا تو کنبہ والے اور کچھ لوگوں نے انہیں اسپتال پہنچا دیا'۔

پولیس کا کیا کہنا ہے


پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بھائی کی ہاتھ ٹرین میں کٹ گئی تھی۔ حالانکہ اکرام نے اسے غلط بتاتے ہوئے کہا ' میں اپنے بھائی کے لئے انصاف چاہتا ہوں۔ پولیس ریاستی حکومت کے دباو میں معاملہ کی ٹھیک سے جانچ نہیں کر رہی ہے۔ پولیس کہہ رہی ہے کہ میرے بھائی کا ہاتھ ٹرین سے کٹ گیا تھا۔ وہ اسے حادثہ کا معاملہ بنانے کے لئے اصل حقیقت چھپا رہے ہیں'۔

ہاتھ کاٹنے کے الزامات سے انکار


حالانکہ، اخلاق کے کنبہ نے جس شخص پر حملے کا الزام لگایا ہے، اس نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔ اس نے اخلاق پر جنسی استحصال کا الزام لگاتے ہوئے کہا ' ہمارا 7 سال کا بھتیجا غائب ہو گیا تھا۔ ہم اسے کھوج رہے تھے اور تقریبا نصف کلومیٹر چلنے کے بعد ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اخلاق میرے بھتیجے کا جسمانی استحصال کر رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے اسے مارا، لیکن اسی دوران وہ فرار ہو گیا۔ ہمیں بھی چوٹ آئی ہے۔ میرے دانت بھی ٹوٹ گئے'۔

ہو رہی ہے معاملے کی جانچ

اس معاملہ کی جانچ کر رہے انسپکٹر انکت ناندل کہتے ہیں ' بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ وہ شخص نابالغ لڑکے کے ساتھ جسمانی استحصال میں شامل تھا۔ ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں اور جو بھی مجرم پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی'۔



Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 12, 2020 11:42 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading