உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Monsoon Session : ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت 5 پارٹیوں کے 19 راجیہ سبھا اراکین معطل

    لوک سبھا میں تعطل ختم، 4 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس

    لوک سبھا میں تعطل ختم، 4 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس

    Parliament Monsoon Session: راجیہ سبھا میں ہنگامہ اور نعرے بازی کرنے پر ایوان کے 19 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو اس ہفتہ کی باقی ماندہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے منگل کو یہ اطلاع دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی: راجیہ سبھا میں ہنگامہ اور نعرے بازی کرنے پر ایوان کے 19 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو اس ہفتہ کی باقی ماندہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ معطل اراکین میں سب سے زیادہ ترنمول کانگریس کے ہیں۔ ٹی ایم سی کے موسم نور، سشمیتا دیو، شانتا چھیتری، ڈولا سین، شانتنو سین، ابھی رنجن بسواس اور محمد ندیم الحق اب اس ہفتہ کی باقی ماندہ مدت میں شریک نہیں ہوسکیں گے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: حج وعمرہ ٹور آپریٹرزکو جی ایس ٹی سے استثنیٰ قراردینے سے سپریم کورٹ کاانکار


      وہیں ڈی ایم کے سے حامد عبداللہ، ایس کلیان سندرم، آرگرنجن، این آر ایلینگو، ایم شنموگم، این وی ایم سومو کنی موزی کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ سی پی آئی (ایم) کے اے اے رحیم، وی شیوداسن، سی پی آئی کے سندوش پی کمار اور ٹی آر ایس کے بی لنگیا یادو، رویندر وڈی راجو اور دامودر راؤ دیوکونڈا کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کارگل وجے دیوس پر PM Modi نے ہندوستانی فوج کی بہادری کو کیا یاد


      راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے کچھ ارکان کی معطلی کے بعد ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت خلل ڈال رہی ہے ، جبکہ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ راجیہ سبھا سے اپوزیشن ارکان کو معطل کرنے کا فیصلہ بھاری من سے کیا گیا ہے ۔ گوئل نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آسن کی اپیلوں کو بار بار نظر انداز کیا، جس کے بعد انہیں معطل کیا گیا۔

      ادھر کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے مہنگائی اور گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) پر جاری تعطل اور جانچ ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال پر پارلیمنٹ میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ ان پارٹیوں نے ایک خط میں کہا ہے کہ ’’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں میں تعطل ہے کیونکہ حکومت مہنگائی اور کئی کھانے پینے کی اشیاء پر جی ایس ٹی لگانے کے معاملہ پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔‘‘
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: