உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس نوٹ بندی کی نذر، غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

    ہم آپ کو بتادیں کہ ہمارے ملک کے پارلیمنٹ ہاؤس کا افتتاح 1927 میں ہوا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر اس وقت کو دھیان میں رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ مرکزی سیکرٹریٹ سمیت راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ تک تین کلومیٹر کے علاقے کونیا لُک  دینےپر کام ہوگا۔  موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت پرانے وقت کی ضروریات کے مطابق تعمیر کی گئی تھی۔

    نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامہ اور حزب اقتدار کی ہٹ دھرمی کے سبب لوک سبھا کا سرمائی اجلاس پوری طرح ہنگامہ کی نذ ر ہوگیا اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوان وں کی کارروائی آج غیر معینہ مدت کے لئے ملتو ی کردی گئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامہ اور حزب اقتدار کی ہٹ دھرمی کے سبب لوک سبھا کا سرمائی اجلاس پوری طرح ہنگامہ کی نذ ر ہوگیا اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوان وں کی کارروائی آج غیر معینہ مدت کے لئے ملتو ی کردی گئی۔ سولہ نومبر سے شروع ہوئے اس سرمائی اجلا س میں لوک سبھا میں دو اورراجیہ سبھا میں صرف ایک بل ہی منظورہوسکاجب کہ نوٹ بندی پر بحث بھی مکمل نہیں ہوسکی۔اپوزیشن جہاں دونوں ایوانوں میں بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی کا مطالبہ کرتا رہا وہیں حزب اقتدار اس معاملے پر اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے آج آخری دن تک تعطل برقرار رہا۔ ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کے تقریبا92 گھنٹے اور راجیہ سبھا کے 86گھنٹے برباد ہوئے۔
      لوک سبھا میں صرف انکم ٹیکس بل اور حقوق معذورین بل ہی منظو رکرائے جاسکے اورضمنی مطالبات زر منظور کرائے گئے جب کہ راجیہ سبھا میں صرف حقوق معذورین بل ہی منظور ہوا ۔ وہاں مطالبات زر اور انکم ٹیکس بل پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن اور راجیہ سبھا کے چےئرمین حامد انصاری نے ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے پہلے اجلاس کے دوران کام کا ج نہیں ہوپانے پر شدید تشویش اور ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ اس سے لوگوں کے درمیان اراکین پارلیمنٹ کا امیج خراب ہوتا ہے۔
      سولہ نومبر سے شروع ہوئے سرمائی اجلا س میں لوک سبھا کی 21 نشستیں ہوئیں۔ اس دوران اپوزیشن پہلے تو نوٹ بندی پر ضابطہ 56 کے تحت تحریک التوا کے ذریعہ سے بحث کرانے کے لئے مصر رہا۔ پھر ضابطہ 184 کے تحت بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن بعد میں وہ کسی بھی ضابطہ کے تحت بحث کے لئے راضی ہوگیا تھا لیکن حزب اقتدا ر نے یہ مطالبہ بھی تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے پورے اجلاس کے دوران ہنگامہ ہوتا رہا۔
      اپوزیشن وزیر اعظم نریندر مودی کے ایوان میں بحث کے دوران موجود رہنے کا بھی مطالبہ کرتا رہا لیکن حکمراں جماعت نے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خریداری سودے میں دلالی کا معاملہ اٹھاکر کانگریس کو نشانہ بنایا۔ جس سے ایوان کی کارروائی میں رخنہ پڑتا رہا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے اروناچل پردیش میں ایک پن بجلی پروجیکٹ میں گھپلہ میں امور داخلہ کے وزیر مملکت کرن رجیجوکے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اس نے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا۔
      اجلاس کے دوران نوٹ بندی کے معاملے پر ضابطہ 193 کے تحت بحث شروع ہوئی تھی۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے جتیندر ریڈی نے بحث کا آغاز کیا لیکن کانگریس، ترنمول اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کے ہنگامے کی وجہ سے وہ بھی اپنی بات مکمل نہیں کرسکے اور آخر تک اس پر بحث ادھوری رہ گئی۔ اس اجلاس میں نو سرکاری بل پیش کئے گئے لیکن صرف انکم ٹیکس بل 2016 اور حقوق معذورین بل 2016 ہی پاس ہوسکے۔اس دوران 440 اسٹار سوالات پیش کئے گئے جن میں سے 50سوالوں کے زبانی جواب دئے جاسکے۔ اس طرح ہر روز صرف اوسطا 2.4 سوالوں کے ہی جواب دئے جاسکے۔ وقفہ صفر میں اراکین نے عوامی اہمیت کے 124 معاملات اٹھائے۔
      لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے آج اجلاس کے آخری دن معذورین حقوق بل کو لنچ کے بعد منظور کرانے کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایوان میں مسلسل ہنگامے پر گہری تشویش کااظہار کیا اور کہا کہ 91 گھنٹہ اور 59منٹ کا جو وقت بربا د ہوا ہے وہ اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے عوام میں ہمارا امیج خراب ہوتا ہے۔ انہوں نے اراکین سے اپیل کی کہ وہ اختلافات اور اعتراضات ظاہر کرنے کے لئے ایوان کے ذرائع کا استعمال کریں او رمستقبل میں زیادہ سے زیادہ مکالمہ اور بحث کریں۔ ‘محترمہ مہاجن نے امید ظاہر کی کہ تمام جماعتوں اور اراکین کی انہیں مستقبل میں حمایت حاصل رہے گی۔
      لوک سبھا اسپیکر نے تمام اراکین کو کرسمس اور نئے سال 2017 کی نیک خواہشات دیتے ہوئے یہ عہد کرنے کی اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات اور اعتراضات کو پارلیمانی ذرائع سے اٹھائیں گے اور ایوان میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا، "ہم یہ عہدلیں کہ نئے سال میں ہم یہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے کہ ہم تمام دستیاب پارلیمانی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اختلافات اور اعتراضات کو پرزور طریقے سے درج کرائیں گے اوریہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ اسمبلی میں کم سے کم رخنہ اور زیادہ سے زیادہ بات چیت اور بحثیں ہوں۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی نوٹوں کی منسوخی کے معاملے پر اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے کی وجہ سے سرمائی اجلاس مکمل طور ہنگامے کی نذر ہوگیا اور اس دوران صرف ایک بل منظور ہوا اور ایوان کی کارروائی غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی۔
      غور طلب ہے کہ 16 نومبر سے شروع ہوئے راجیہ سبھا کے 241 ویں سیشن میں 21 اجلاس ہوئے لیکن 86 گھنٹے کا وقت شورو غل کی وجہ سے برباد ہو گیا اور محض 22 گھنٹے کارروائی جاری رہی۔ ایوان نے صرف معذوروں کے حقوق سے متعلق ایک بل منظور کیا اور اس کے علاوہ کوئی کام کاج نہیں ہوا۔ سیشن کے دوران 12 نجی بل پیش کئے گئے۔ نوٹوں کی منسوخی کے معاملے پر پہلے دن ہی کام روکو تجویز کے تحت بحث شروع ہوئی لیکن دو دن میں صرف چھ گھنٹے تک بحث کے بعد یہ آخر تک پوری نہیں ہوسکی۔ پورے اجلاس کے دوران اس بحث میں حصہ لینے کے لئے وزیر اعظم کو بلانے کی اپنی مانگ پر اپوزیشن بضد رہی اور اس مطالبہ کے پورا نہیں ہونے پر انہوں نے ایوان چلنے ہی نہیں دیا۔ سیشن کے دوران ایک دن بھی وقفہ سوالا ت نہیں ہو سکا اور وقفہ صفرمیں بھی رخنہ پڑا۔ پورے سیشن میں صرف دو سوالات کا زبانی جواب دیا گیا۔
      اجلاس کے آخری دن کارروائی شروع ہونے پر چیئرمین محمد حامد انصاری نے باقاعدہ کام کاج نپٹاتے ہی سوا گیارہ بجے کارروائی غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پورے سیشن میں ہنگامے کے لئے اپوزیشن اورحکمراں گروپ دونوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مایوس ہو کر یہاں تک کہا کہ ایوان میں صرف تعزیتی پیغام کے وقت ہی امن رہا۔ چیئرمین نے تمام اراکین کو اپنے رویے پر 'خوداحتسابی کا بھی مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دسمبر 2010 میں 221 ویں اجلاس کے ختم ہونے کے وقت کہی گئی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتے تھے لیکن اس اجلاس کی طرح اس بار بھی کام کاج بری طرح متاثر رہنے کی وجہ سے انہیں یہ باتیں کہنی پڑ رہی ہیں۔
      وزیر اعظم نریندر مودی ایک دن وقفہ سوالات کے وقت ایوان میں آئے اور اس عرصہ میں نوٹوں کی منسوخی پر ہوئی بحث کو بھی سنا لیکن اس کے بعد وہ چلے گئے جس سے مایوس اپوزیشن نے پھر ہنگامہ شروع کر دیا۔ حکمراں گروپ نے بھی اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کے تحت اگستا ویسٹ لینڈ کا معاملہ اٹھایا۔ تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے جے للتا کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ان کے اعزاز میں ایک دن ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی۔
      First published: