ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تین طلاق بل لوک سبھا میں پیش، بل میں تین طلاق دینے پر 3 سال کی سزا کا التزام

کانگریس کے ششی تھرور نے یہ کہتے ہوئے تین طلاق بل کی مخالفت کی کہ خواتین کا استحصال روکنے جیسے بڑے مسئلوں کے بجائے یہ بل ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لئے قانون بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Dec 17, 2018 04:42 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تین طلاق بل لوک سبھا میں پیش، بل میں تین طلاق دینے پر 3 سال کی سزا کا التزام
علامتی تصویر

تین طلاق کو غیر قانونی اور غیر ضمانتی جرم بنانے سے متعلق ’مسلم خواتین (شادی کے حقوق کی حفاظت)بل2018‘ آج لوک سبھا میں پیش ہوگیا۔ مختلف مسئلوں پر ایوان میں جاری ہنگامے کے درمیان قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے وقفہ صفر سے پہلے بل پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔


کانگریس کے ششی تھرور نے یہ کہتے ہوئے بل کی مخالفت کی کہ خواتین کا استحصال روکنے جیسے بڑے مسئلوں کے بجائے یہ بل ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لئے قانون بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ یہ سائرہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور کیونکہ یہ مخصوص طبقے کے لئے لایا گیا ہے اس لئے یہ آئینی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے۔


اس کے جواب میں پرساد نے یہ دلیل دی کہ یہ بل مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے لایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کی روایت کو غیر آئینی ٹھہرائے جانے کے بعد بھی بلا خوف اس پر عمل کیا جارہا تھا۔ اس لئے حکومت مسلم خواتین کے حق میں یہ بل لائی ہے۔ اس کے بعد شور شرابے کے درمیان ہی ایوان نے صوتی ووٹوں سے بل پیش کرنے کی منظوری دے دی۔




پارلیمنٹ: فائل فوٹو
پارلیمنٹ: فائل فوٹو

اس بل میں تین طلاق دینے پر تین سال کی سزا کا التزام ہے۔ اس کے لئے حکومت پہلے ہی آرڈیننس لاچکی ہے۔ تین طلاق کو غیر ضمانتی جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ حالانکہ بیوی کی رضامندی پر ضلع مجسٹریٹ ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی التزام ہے کہ شکایت کا حق متاثرہ بیوی، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والوں اور شادی کے بعد بنے اس کے رشتہ داروں کو ہی ہوگا۔

First published: Dec 17, 2018 04:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading