உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مویشیوں کو اسمگلرس سے بچانے BSF کا منصوبہ، پارلیمانی پینل کے تحت پروٹوکول کے قیام پر زور

    مویشیوں کو اسمگلروں سے بچانے کی بھی بات کہی گئی تھی۔

    مویشیوں کو اسمگلروں سے بچانے کی بھی بات کہی گئی تھی۔

    Cattle Rescued from Smugglers: ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دلیپ گھوش کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بی ایس ایف کے ڈی جی نے سرحد پر مویشیوں کی اسمگلنگ کے مسئلہ پر بات کی اور کہا کہ نیم فوجی دستے اس سے واقف ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Jammu | Hyderabad | Mumbai | Lucknow
    • Share this:
      پارلیمانی اسٹائڈنگ کمیٹی برائے وزارت امور داخلہ نے بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) سے کہا ہے کہ وہ مشرقی سرحد میں ہند-بنگلہ سرحد (Indo-Bangla border) کے قریب اسمگلروں سے بچائے گئے مویشیوں کے لیے ایک واضح پروٹوکول قائم کرے، تاکہ یہاں کے مویشیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک سنگھوی کی صدارت میں پیر کی شام منعقدہ پینل کی میٹنگ میں کمیٹی نے بارڈر سیکورٹی فورس سے کہا کہ وہ اسمگل شدہ مویشیوں کو دوبارہ حاصل کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے کوشش کرے۔ اسی ضمن میں تحریری طور پر ایک تفصیلی منصوبہ پیش کرے۔

      ذرائع نے مزید کہا کہ ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیرک اوبرائن نے بھی پینل کے سامنے ہوم سکریٹری اجے کمار بھلا کی کم حاضری کا مسئلہ اٹھایا۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پنکج سنگھ نے اس سے قبل پینل کے سامنے فورس کے کام کاج اور اس کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن پیش کیا تھا۔ اس پریزنٹیشن میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی سرحدوں پر مویشیوں کو اسمگلروں سے بچانے کی بھی بات کہی گئی تھی۔

      بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دلیپ گھوش کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بی ایس ایف کے ڈی جی نے سرحد پر مویشیوں کی اسمگلنگ کے مسئ سے آگاہ کرایا اور کہا کہ نیم فوجی دستے اس سے واقف ہیں۔ سنگھ نے بتایا کہ بی ایس ایف کے لیے برآمد شدہ مویشی ایک بڑی مصیبت میں تبدیل ہو گئے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کی نئی ہدایات کے مطابق ان کی نیلامی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان جانوروں کی نیلامی کے بجائے اس کی حفاظت اور وقت پر ان کے کھانے پینے کے انتظامات ضروری ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ملکہ الیزابیتھ-دوئم: جب حیدرآباد کے نظام نے ملکہ کو 300 ہیروں سے جڑا ہارپیش کیا، جانئے مکمل کہانی

      انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کو ان مویشیوں کو بحالی اور دیکھ بھال کے لیے فلاحی تنظیموں کو تلاش کرنا ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل برآمد کیے گئے مویشی محکمہ کسٹمز کے حوالے کیے گئے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے مویشی بوڑھے اور خرابیٔ صحت میں مبتلا ہیں اور زیادہ تر نقل و حمل تک نہیں چل پاتے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ہندوستان۔ سعودی عرب تعلقات میں ہوگی نئی پہل، جے شنکر کی سعودی ولی عہد MbS سے ملاقات

      ذرائع کے مطابق کمیٹی نے مزید تفصیلات طلب کی ہیں جس میں گزشتہ تین سال میں کتنے مویشیوں کی موت ہوئی ہیں؟ اس کے اعداد و شمار طلب کیے گئے ہیں۔ یہ پینل قومی سلامتی کے تناظر میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے کام کرنے کے طریقہ کار وزارت داخلہ اور بارڈر سیکورٹی فورس کے خیالات سن رہا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: