ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پارلیمانی کمیٹی کی فیس بک اور گوگل کو دو ٹوک ، ہندوستان کے قوانین و ضوابط پر کریں عمل

فیس بک انڈیا کے افسران نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال کے معاملہ پر منگل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور اس کمیٹی کے صدر ہیں ۔

  • Share this:
پارلیمانی کمیٹی کی فیس بک اور گوگل کو دو ٹوک ، ہندوستان کے قوانین و ضوابط پر کریں عمل
پارلیمانی کمیٹی کی فیس بک اور گوگل کو دو ٹوک ، ہندوستان کے قوانین و ضوابط پر کریں عمل

نئی دہلی : انفارمیشن ٹیکناجی سے متعلق پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی (Parliamentary Standing Committee on Information Technology) نے فیس بک اور گوگل کو نئے آئی ٹی قوانین  (New IT Rules)  پر عمل کرنے اور ہندوستان کے قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ نئے آئی ٹی قوانین کو لے کر پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک اور گوگل کے افسران کو طلب کیا تھا ۔ فیس بک انڈیا کے افسران نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال کے معاملہ پر منگل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور اس کمیٹی کے صدر ہیں ۔ فیس بک کے ہندوستان میں پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر شیوناتھ ٹھکرال اور جنرل کاونسل نمرتا سنگھ نے کمیٹی کے سامنے اپنی بات پیش کی ۔


وہیں گوگل کے افسران نے کہا کہ جنوری سے مارچ 2021 کے درمیان یوٹیوب نے کمیونٹی گائیڈلائنس کو توڑنے والے ساڑھے نو ملین ویڈیوز کو ہٹایا تھا ۔ اس میں 95 فیصد ویڈیوز کے بارے میں انسان نے نہیں بلکہ مشینوں نے آگاہ کیا تھا ۔ مشینوں کے ذریعہ ڈیٹیکٹ کئے گئے ویڈیوز میں 27.8 فیصد ویڈیوز میں ایک بھی ویوز نہیں تھا جبکہ 39 فیصد میں ایک سے دس ویز تھے ۔


افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ اسی سہ ماہی کے دوران یوٹیوب نے اپنی کمیونٹی گائیڈلائنس کی خلاف ورزی کرنے کیلئے 2.2 ملین سے زیادہ چینلوں کو ختم کردیا ۔ اسی مدت میں یوٹیوب نے ایک ارب سے زیادہ کمنٹس کو ہٹایا ، جن میں سے زیادہ تر اسپیم تھے اور انہیں آٹومیٹیکلی ڈیٹیکٹ کیا گیا تھا ۔


کانگریس لیڈر ششی تھرور کی صدارت والی کمیٹی نے سکریٹریٹ کو دو دنوں کے اندر ٹویٹر سے تحریری طور پر  جواب مانگنے کا حکم دیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد اور کانگریس لیڈر ششی تھرور کے ٹویٹر اکاونٹس کو کس بنیاد پر بلاک کیا گیا تھا ۔ اس معاملہ میں ٹویٹر کو آج خط بھیجے جانے کا امکان ہے ۔

پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کا ایجنڈہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور سوشل میڈیا / آن لان نیوز میڈیا پلیٹ فارمس کے غلط استعمال کو روکنا تھا ۔ اس سے پہلے فیس بک کے نمائندوں نے پارلیمانی کمیٹی کو مطلع کیا تھا کہ کووڈ سے متعلق پروٹوکول کی وجہ سے ان کی کمپنی کی پالیسی ان کے افسران کو  جسمانی طور پر موجودگی والی میٹنگوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی ہے ۔

تاہم پارلیمانی کمیٹی کے صدر ششی تھرور نے فیس بک سے کہا تھا کہ اس کے افسران کو میٹنگ میں شرکت کرنی ہوگی کیونکہ پارلیمانی سیکرٹریٹ ڈیجیٹل میٹنگوں کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 29, 2021 08:40 PM IST