ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پاسپورٹ آفیسر نے خارج کردی ہندو- مسلم جوڑے کی درخواست، شوہرکوہندومذہب اپنانے کا مشورہ بھی دیا

اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں ایک پاسپورٹ آفیسر نے ایک جوڑے کی عرضی اس لئے خارج کردی، کیونکہ وہ الگ الگ مذہب سے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ پاسپورٹ آفیسر نے ہندو مسلم جوڑے کی درخواست خارج کرنے سے پہلے انہیں "شرمندہ" بھی کیا۔

  • Share this:
پاسپورٹ آفیسر نے خارج کردی ہندو- مسلم جوڑے کی درخواست، شوہرکوہندومذہب اپنانے کا مشورہ بھی دیا
محمد انس صدیقی اور ان کی اہلیہ تنوی سیٹھ۔ فائل فوٹو۔

لکھنو: اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں ایک پاسپورٹ آفیسر نے ایک جوڑے کی عرضی اس لئے خارج کردی، کیونکہ وہ الگ الگ مذہب سے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ پاسپورٹ آفیسر نے ہندو مسلم جوڑے کی درخواست خارج کرنے سے پہلے انہیں "شرمندہ" بھی کیا۔


ساتھ ہی اس نے مرد کو اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندو بننے کی نصیحت بھی دے ڈالی۔ جوڑے نے مرکزی وزیر سشما سوراج اور پی ایم او کو ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی ہے اور معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔


اطلاعات کے مطابق محمد انس صدیقی نے سال 2007 میں لکھنو میں تنوی سیٹھ سے شادی کی تھی۔ ان کی ایک 6 سال کی بیٹی بھی ہے۔ انس صدیقی نے 19 جون کو اپنے اور اپنی بیوی کے پاسپورٹ کے لئے درخواست دی تھی۔ 20 جون کو لکھنو کے پاسپورٹ آفس میں ان کا اپائنٹمنٹ تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ جوڑے نے انٹرویو اسٹیج اے اور بی کلیئر بھی کرلیا تھا۔ سی اسٹیج میں پوچھے گئے سوالات کو لے کر پریشانی سامنے آئی۔


نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے انس صدیقی نے بتایا "مجھ سے پہلے میری بیوی کی باری آئی۔ وہ سی 5 کاونٹر پر گئی، تو وکاس مشرا نام کا ایک آفیسر اس کے دستاویز چیک کرنے لگا۔ جب اس نے شوہر کانام کالم میں محمد انس صدیقی لکھا دیکھا تو میری بیوی پر چلانے لگا۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ اسے (میری بیوی کو) مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ میری بیوی رو رہی تھی، جس کے بعد آفیسر نے اس سے کہا کہ وہ سارے دستاویز میں سدھار کرکے دوبارہ آئے"۔

انس صدیقی نے بتایا کہ "میری بیوی تنوی نے آفیسر سے کہا کہ وہ نام نہیں تبدیل کرانا چاہتی، کیونکہ ہمارے اہل خانہ کو اس سے پریشانی نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی پاسپورٹ آفسیر نے اس سے کہا کہ وہ اے پی او آفس چلی جائے، کیونکہ اس کی فائل اے پی او آفس بھیجی جارہی ہے"۔

انس صدیقی کے مطابق "اس کے بعد پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے مجھے بلایا اور میری بے عزتی کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں ہندو مذہب اپنالوں، ورنہ میری شادی نہیں مانی جائے گی۔ اس نے نصیحت دی کہ ہمیں پھیرے لے کر شادی کرنی چاہئے اور مذہب تبدیل کرلینا چاہئے"۔
First published: Jun 20, 2018 11:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading