உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پٹیالہ ہاؤس کورٹ تنازعہ :صحافیوں نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی

    نئی دہلی۔ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں وکیلوں کے ذریعہ نامہ نگاروں و اخبار نویسوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے معاملے میں آج صحافیوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور ایک احتجاجی مارچ نکالا۔

    نئی دہلی۔ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں وکیلوں کے ذریعہ نامہ نگاروں و اخبار نویسوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے معاملے میں آج صحافیوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور ایک احتجاجی مارچ نکالا۔

    نئی دہلی۔ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں وکیلوں کے ذریعہ نامہ نگاروں و اخبار نویسوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے معاملے میں آج صحافیوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور ایک احتجاجی مارچ نکالا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں وکیلوں کے ذریعہ نامہ نگاروں و اخبار نویسوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے معاملے میں آج صحافیوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور ایک احتجاجی مارچ نکالا۔ بڑی تعداد میں صحافی دہلی کی سڑکوں پر اترے اور مارپیٹ کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ واضح رہے کہ پیرکے روز جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کی پیشی کے دوران وکلاء نے میڈیا اور جے این یو طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ کی تھی جس میں کئی صحافی زخمی بھی ہوئے تھے۔


      اس مظاہرے میں سینئر صحافیوں سمیت بڑی تعداد میں نوجوان صحافیوں نے بھی شرکت کی اور صحافیوں پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ بعد ازاں، صحافیوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں اپنے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا۔ اس مظاہرے میں ٹی وی چینل کے سینئر صحافی برکھا دت،راجدیپ سر دیسائی اور ندھی رازدان سمیت متعدد صحافیوں نے شرکت کی۔ یہ مارچ پریس کلب آف انڈیا سے شروع کیا گیا جہاں پولس کمشنر بی ایس بسی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ سپریم کورٹ کے پاس پولس نے اس مارچ کو روک بھی دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا ہوا تھا’’صحافیوں پر حملہ جمہوریت پر حملہ ہے‘‘۔


      صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ مارپیٹ کرنے والے وکیلوں و دیگر افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔صحافیوں کے ساتھ چند وکیل بھی آگئے جنہوں نے صحافیوں کی حمایت کی اور کہا کہ وہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف ہیں اور میڈیا اور صحافیوں کی آواز میں اپنی آواز ملاتے ہیں۔

      First published: