உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پٹیالہ ہاوس کورٹ سے وزیراعلیٰ کیجریوال کی عرضی خارج

    اروند کیجریوال: فائل فوٹو

    اروند کیجریوال: فائل فوٹو

    چیف سکریٹری انشو پرکاش سے مارپیٹ معاملے میں پٹیالہ ہاوس کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عرضی خارج کردی۔ کیجریوال نے پٹیالہ ہاوس کورٹ میں عرضی داخل کرکے پولیس کے ذریعہ درج کئے گئے ان کے بیان کی کاپی اور ویڈیو ریکارڈنگ کا مطالبہ کیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: چیف سکریٹری انشو پرکاش سے مارپیٹ معاملے میں پٹیالہ ہاوس کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عرضی خارج کردی۔ کیجریوال نے پٹیالہ ہاوس کورٹ میں عرضی داخل کرکے پولیس کے ذریعہ درج کئے گئے ان کے بیان کی کاپی اور ویڈیو ریکارڈنگ کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ سماعت میں دہلی پولیس نے اپنا جواب داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوری پوچھ گچھ کی ریکارڈنگ کی گئی ہے۔

      اس معاملے میں گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے اروند کیجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پٹیالہ ہاوس کورٹ میں عرضی داخل کرکے پولیس کے ذریعہ درج کئے گئے بیانات کی کاپی اور ویڈیو ریکارڈنگ کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

      چیف سکریٹری انشوپرکاش نے الزام لگایا تھا کہ 20-19 فروری کی نصف شب کو وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی موجودگی میں بلائی گئی میٹنگ میں ان کے ساتھ آپ کے ممبران نے مبینہ طور پر مارپیٹ اور بدسلوکی کی تھی۔ اس حادثہ کے بعد انشو پرکاش ایک ہفتے کی میڈیکل چھٹی پر چلے گئے تھے۔

      دہلی پولیس نے اس معاملے میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے دو ممبران اسمبلی امانت اللہ خان اور پرکاش جروال کو گرفتار کیا تھا۔ حالانکہ بعد میں دونوں کو ضمانت دے دی گئی تھی۔ اس معاملے میں کیجریوال کے اس وقت کے مشیر وی کے جین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

       

       
      First published: