உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر خالد-انربان کو ضمانت ملے گی یا نہیں؟ فیصلہ 18 مارچ کو

    نئی دہلی۔ جے این یو میں ملک مخالف نعروں کے الزام میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی ضمانت کی درخواست پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت مکمل ہو گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ جے این یو میں ملک مخالف نعروں کے الزام میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی ضمانت کی درخواست پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت مکمل ہو گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ جے این یو میں ملک مخالف نعروں کے الزام میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی ضمانت کی درخواست پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت مکمل ہو گئی ہے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ جے این یو میں ملک مخالف نعروں کے الزام میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی ضمانت کی درخواست پر پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ کورٹ نے اپنا فیصلہ 18 مارچ تک محفوظ رکھا ہے۔ آج سماعت کے دوران عمر-انربان اور دہلی پولیس کے وکلاء نے اپنی اپنی دلیلیں رکھیں۔ دہلی پولیس نے ضمانت کی مخالفت کی۔

      عمر اور انربان نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں منگل کو ضمانت کی درخواست دی تھی۔ اپنی عرضی میں انہوں نے دلیل دی تھی کہ کنہیا کو اسی صورت میں ضمانت دی جا چکی ہے لہذا انہیں بھی ضمانت دی جائے۔ اس سے پہلے کل ہی عمر اور انربان کی عدالتی حراست کو عدالت نے ایک بار پھر 14 دن کے لئے بڑھا دیا تھا۔

      آج سماعت شروع ہونے سے پہلے جج نے کورٹ روم میں میڈیا کے لوگوں اور کیس سے وابستہ لوگوں کو الگ الگ کھڑا کیا۔ سماعت کے دوران پٹیالہ ہاؤس کورٹ مار پیٹ سانحہ کا ملزم وکیل یشپال بھی عدالت میں موجود تھا۔ کورٹ روم میں جج نے اس کی موجودگی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ کوئی گڑبڑ نہیں کرے گا۔ کورٹ نے اسے واپس بیٹھ جانے کو کہا۔

      کیا کیا ہوا سماعت کے دوران؟

      انربان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غداری اور مجرمانہ سازش کی دفعات جو اس کے اوپر لگائی گئی ہیں وہ غلط ہیں، ان دفعات کا غلط استعمال کیا گیا۔ جو سرگرمیاں انربان نے 9 فروری کو جے این یو میں انجام دی تھیں وہ غداری کے زمرے میں نہیں آتیں۔ صرف پروگرام کے انعقاد تک ہی انربان کا کردار تھا اس سے آگے انربان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ صرف بحث ہوئی تھی جس میں حصہ لیا گیا تھا، کوئی سرگرمی نہیں کی گئی تھی۔

      وہیں عمر کے وکیل نے دلیل دی کہ پولیس کو دونوں کے خلاف صرف یہ ثبوت ملا ہے کہ پوسٹروں پر ان کے نام لکھے تھے۔ عمر اور انربان کو حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے، اسے غداری نہیں کہا جا سکتا۔

      دہلی پولیس کے وکیل نے کہا کہ 8 فروری کو خالد اور انربان نے اجازت کے لئے جے این یو میں درخواست دی تھی۔ دونوں کے علاوہ کومل اور اشوتر نام کی طالبہ بھی تھیں۔ پولیس کے مطابق کنہیا کے رول سے ان دونوں کے رول کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، یہ دونوں آرگنائزر تھے جبکہ کنہیا آرگنائزر نہیں تھا۔

      بتا دیں کہ 12 فروری کو دہلی پولیس نے جے این یو طلبہ یونین صدر کنہیا کمار کو غداری اور مجرمانہ سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ تاہم اب اسے 6 ماہ کی عبوری ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جے این یو میں منعقد ایک پروگرام کے دوران ملک مخالف نعرے بازی کو لے کر درج کیا گیا تھا۔ بعد میں عمر اور انربان نے پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی تھی اور عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔
      First published: