ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شیو پال نے اکھلیش کے قریبی وزیر پون پانڈے کو پارٹی سے کیا باہر، آشو ملک کی پٹائی کی تھی

وزیر اعلی اکھلیش یادو کی رہائش گاہ میں ایم ایل سی آشو ملک سے دھکا مکی اور مار پیٹ پر ایس پی نے پون پانڈے کو پارٹی سے 6 سال کے لئے نکال دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 26, 2016 12:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شیو پال نے اکھلیش کے قریبی وزیر پون پانڈے کو پارٹی سے کیا باہر، آشو ملک کی پٹائی کی تھی
وزیر اعلی اکھلیش یادو کی رہائش گاہ میں ایم ایل سی آشو ملک سے دھکا مکی اور مار پیٹ پر ایس پی نے پون پانڈے کو پارٹی سے 6 سال کے لئے نکال دیا ہے۔

لکھنؤ۔  اترپردیش کےجنگلات کے وزیر مملکت تیج نارائن عرف پون پانڈے کو ریاستی قانون ساز کونسل رکن آشو ملک کو پیٹنے کے الزام میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے آج چھ سال کے لئے نکال دیا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر شیو پال سنگھ یادو نے یہ اطلاع دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر پانڈے کو کابینہ سے برطرف کرنے کے لئے وزیر اعلی کو خط لکھا جا رہا ہے۔ مسٹر ملک ایس پی صدر ملائم سنگھ یادو کے کافی قریبی ہیں۔ مسٹر ملک کے مطابق گذشتہ 24 اکتوبر کو انہیں مسٹر پانڈے نے وزیر اعلی کی رہائش میں مارا تھا۔ اس کی شکایت انہوں نے پولیس میں بھی میں درج کرائی ہے۔ ملک کے ساتھ مار پیٹ کی وجہ سے ملائم سنگھ یادو پون پانڈے سے کافی ناراض تھے۔


سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر شیو پال یادو نے کہا کہ پون پانڈے پر وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر آشو ملک کو قتل کرنے کا سنگین الزام ہے۔ پارٹی نے اسے ڈسپلن شکنی مانتے ہوئے انہیں چھ سال کے لئے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ڈسپلن برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو بھی پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف کام کرے گا اس کے ساتھ یہی قدم اٹھایا جائے گا۔ یہ سوال کہ قانون ساز کونسل کے تین ارکان سنیل یادو، آنند بھدوريا اور سنجے لاٹھور سمیت پارٹی سے پہلے ہی نکالے جا چکے دوسرے لوگوں کی واپسی ہوگی یا نہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں فیصلہ نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) کریں گے۔ قانون ساز کونسل کے ان تین ارکان اور ان کے ساتھ نکالے گئے دیگر نوجوانوں کو وزیر اعلی اکھلیش یادو کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔


پارٹی کے ذرائع کے مطابق تیج نارائن پانڈے سے وزیر اعلی خفا تھے۔ ناراضگی کی وجہ سے مسٹر پانڈے نے شیو پال یادو سے قربت بڑھا لی تھی۔ لیکن پارٹی میں جاری گھمسان ​​کو دیکھتے ہوئے انہوں نے موقف تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں وزیر اعلی کے نزدیک آنے کے لئے انہوں نے مسٹر ملک کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ ایس پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ پارٹی اور خاندان ایک ہے۔ کہیں کوئی تنازع نہیں ہے۔ کابینہ میں ان کی واپسی کا فیصلہ نیتا جی کریں گے۔ نیتا جی جو کہیں گے وہی ہوگا۔ واضح رہے کہ 24 اکتوبر کو ایس پی صدر ملائم سنگھ یادو کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ ختم ہونے کے ٹھیک پہلے آشو ملک کے ایک خط کا ذکر آیا تھا۔ اسی کے بعد ہی چچا شوپال سنگھ یادو اور بھتیجے وزیر اعلی اکھلیش یادو کے درمیان مائیک کی چھینا جھپٹی کو لے کر دھکا مکی ہوئی تھی۔

First published: Oct 26, 2016 11:11 AM IST