உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این سی پی جوائن کرنے کے بعد پی سی چاکو نے کہا : بی جے پی کے خلاف یونائیٹڈ فرنٹ چاہتا ہوں ، کانگریس میں وہ ممکن نہیں تھا

    این سی پی جوائن کرنے کے بعد پی سی چاکو نے کہا : بی جے پی کے خلاف یونائیٹڈ فرنٹ چاہتا ہوں ، کانگریس میں وہ ممکن نہیں تھا

    این سی پی جوائن کرنے کے بعد پی سی چاکو نے کہا : بی جے پی کے خلاف یونائیٹڈ فرنٹ چاہتا ہوں ، کانگریس میں وہ ممکن نہیں تھا

    پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے پی سی چاکو کی این سی پی سربراہ شرد پوار کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ دونوں لیڈروں کے درمیان آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا ۔ چاکو کے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے موقع پر شرد پوار کے علاوہ پرفل پٹیل بھی موجود تھے ۔

    • Share this:
      گزشتہ ہفتہ ناراض ہوکر کانگریس سے استعفی دینے والے پی سی چاکو نے منگل کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا ہے ۔ چاکو نے ناراض ہوکر 10 مارچ کو ہی کانگریس سے استعفی دیدیا تھا ۔ پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے پی سی چاکو کی این سی پی سربراہ شرد پوار کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ دونوں لیڈروں کے درمیان آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا ۔ چاکو کے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے موقع پر شرد پوار کے علاوہ پرفل پٹیل بھی موجود تھے ۔ پارٹی جوائن کرنے سے پہلے پی سی چاکو نے سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری سے بھی ملاقات کی ۔

      پارٹی میں شمولیت کے بعد چاکو نے کہا کہ میں نے آج این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ کیرالہ میں این سی پی لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کا حصہ ہے ۔ این سی پی کے ساتھ اب میں ایک مرتبہ پھر ایل ڈی ایف کا حصہ بن گیا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کے خلاف یونائٹیڈ فرنٹ کی ضرورت ہے ۔ کانگریس میں وہ ممکن نہیں تھا ۔



      پی سی چاکو نے ایک بیان سے اپنے ارادے کو واضح کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں اس وقت دو فرنٹ ہیں ، ایک کی قیادت کانگریس کررہی ہے اور دوسری کی لیفٹ ۔ میں نے کانگریس چھوڑ دی ہے اور اس وجہ سے فطری طور پر کوئی موقف اختیار کرنا ہوگا ۔ میں ایل ڈی ایف کی حمایت کرسکتا ہوں ۔

      بتادیں کئی انتخابی سروے میں کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو سبقت دکھائی جارہی ہے ، ایسے میں پی سی چاکو کے ذریعہ بھی ایل ڈی ایف کی حمایت ، کانگریس کیلئے خسارہ کا سودہ ہوسکتا ہے ۔ اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں بھی کانگریس لیڈرشپ پر سوالات اٹھ چکے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: