اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کشمیرمسئلے کے حل کے لئے کرتارپورجیسی پہل کرنے کی ضرورت: محبوبہ مفتی

    پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

    پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

    پی ڈی پی کی صدرنے کہا کہ جموں وکشمیرمسئلے کے حل کے لئے جرات مندانہ، ایماندارانہ اورانسانی پہل کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے پیرکو کہا کہ کشمیرمعاملے کا حل تشدد اورخون خرابے کے بجائے "کرتارپور جیسی پہل" کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے کہا کہ جموں وکشمیرمسئلے کے حل کے لئے جرات مندانہ، ایماندارانہ اورانسانی پہل کی ضرورت ہے۔

      انہوں نے کہا کہ ممبئی حملے (2008) کے 10 سال مکمل ہونے کے دن اس کاریڈورکا سنگ بنیاد رکھے جانے کا گواہ بننا کافی اہمیت رکھتا ہے۔  واضح رہے کہ نائب صدر وینکیا نائیڈو اورپنجاب کے وزیراعلیٰ امریندرسنگھ نے ہفتہ کو کرتارپور صاحب گلیارا کی سنگ بنیاد ہندوستانی سرزمین پررکھی۔ اس کی تعمیرسے سکھ عقیدتمندوں کے پاکستان واقع گرودوارہ دربارصاحب جانے میں آسانی ہوگی۔

      یہ کاریڈور بنانے کافیصلہ مرکزی کابینہ نے 22 نومبرکو لیا تھا۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کرتارپور گلیارے کے لئے 28 نومبرکوپاکستان کی سرزمین پراس کی بنیاد رکھٰں گ۔ محبوبہ مفتی نے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کے ذریعہ لیا گیا فیصلہ قابل تعریف ہے اورہماری قیادت نے بھی وہی وقاروحوصلہ اورسیاسی سنجیدگی دکھائی ہے۔

      بی جے پی میں اٹھنے لگی مخالفت کی آواز

      انہوں نے کہا کہ کرتارپورکاریڈور کھولنے کافیصلہ کرکے ملک کی قیادت نے سیاسی سنجیدگی کامظاہرہ کیا ہے، وہ بھی تب جب ملک میں کچھ ریاستوں میں الیکشن ہورہے ہیں، لیکن بی جے پی کے اس قدم کی تنقید پارٹی کے اندرہی ہونے لگی ہے۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے کاریڈور کھولنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاریڈور ایک خطرناک قدم ہے، اس کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں کوئی مناسب جانچ کا انتظام نہیں ہے۔ بس پاسپورٹ دکھانا ہی کافی نہیں ہے۔ آپ چاندنی چوک مین 250 روپئے دے کرپاسپورٹ بنوا سکتے ہیں۔ لوگوں کو 6 ماہ  پہلے رجسٹریشن کرنا چائے اورہمیں پاکستان سے لوگوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔

      یہ بھی پڑھیں:  حریت والوں نے کشمیریوں کو برباد کیا ہے: بی جے پی لیڈرنےعام شہریوں کی ہلاکت کے لئے حریت کانفرنس کو ذمہ دارٹھہرایا



      First published: