ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پیس کمیٹیوں کی کوششیں 

خاص طور پر میرٹھ جیسے حساس شہر میں پولیس انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر جہاں پولیس فورس کی تعداد میں اضافے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہیں پیس کمیٹیوں کے ذریعہ لوگوں تک امن کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

  • Share this:
میرٹھ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پیس کمیٹیوں کی کوششیں 
خاص طور پر میرٹھ جیسے حساس شہر میں پولیس انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر جہاں پولیس فورس کی تعداد میں اضافے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہیں پیس کمیٹیوں کے ذریعہ لوگوں تک امن کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

گزشتہ دنوں دہلی کے کئی علاقوں میں خراب ہوئے حالات اور تشدد کے واقعات کے بعد مغربی یو پی میں بھی پولیس نے الرٹ جاری کیا تھا۔ خاص طور پر میرٹھ جیسے حساس شہر میں پولیس انتظامیہ  نے احتیاط کے طور پر جہاں پولیس فورس کی تعداد میں اضافے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہیں پیس کمیٹیوں کے ذریعہ لوگوں تک امن کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ شہر کے ذمہ دار افراد کا ماننا ہے کہ پیس کمیٹیوں کے ذریعہ شہر میں امن اور بھائی چارے کے ماحول قائم رکھنے اور افواہوں اور اشتعال انگیز بیانات پر دھیان نہ دینے کا پیغام دیا جا رہا ہے اور شہر کا ماحول خراب کرنے والوں پر غیر جانب دارانہ رویہ رکھتے ہوئے سخت کاروائی کی بھی پولیس افسران سے اپیل کی ہے۔


نائب شہر قاضی اور قومی ایکتا  سدبھاونا سمیتی کے ذمہ دار قاضی زین الراشدین کا کہنا ہے کہ  گزشتہ ٢٠ دسمبر کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران حالات خراب ہونے کی وجہ سے تشدد میں ٦ افراد کی جان چلی گئی تھی اور شہر کا ماحول خراب ہو گیا ہے۔ میرٹھ ابھی تک اس زخم سے ابرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب ایک اور زخم لینے کی تاب نہیں رکھتا ہے اس لئے شہر کے تمام ذمہ داران اور پولیس انتظامیہ کے افسران  شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اپنی اپنی کوششیں انجام دے رہے ہیں۔

وہیں مسلم سماجی اور ملی تنظیم کے ذمہ دار قاری شمس کا ماننا ہے کہ مسلم سماج کی ذمہ دار شخصیات اپنی سطح پر لوگوں تک امن اور بھائی چارے کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہیں لیکن یہ کوششیں دونوں طرف سے ہونی چاہیے ، ساتھ ہی شرپسندوں اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف غیر جانب دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کو  فوری سخت کاروائی کرنی چاہیے۔

First published: Feb 28, 2020 02:25 PM IST