உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیگاسس جاسوسی معاملہ پر مرکز کو سپریم کورٹ کی سرزنش ، سائبر اور فارنسک ماہرین سے تحقیقات کا حکم

    Pegasus Spyware:  یہ کمیٹی آئندہ آٹھ ہفتوں میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔ بنچ نے کہا ہے کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر ڈاکٹر اشونی انل کے علاوہ ڈاکٹر نوین کمار اور ڈاکٹر پرباہرن پی تکنیکی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    Pegasus Spyware: یہ کمیٹی آئندہ آٹھ ہفتوں میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔ بنچ نے کہا ہے کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر ڈاکٹر اشونی انل کے علاوہ ڈاکٹر نوین کمار اور ڈاکٹر پرباہرن پی تکنیکی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    Pegasus Spyware: یہ کمیٹی آئندہ آٹھ ہفتوں میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔ بنچ نے کہا ہے کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر ڈاکٹر اشونی انل کے علاوہ ڈاکٹر نوین کمار اور ڈاکٹر پرباہرن پی تکنیکی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ  (Supreme Court)  نے پیگاسس جاسوسی (Pegasus Spyware) معاملے میں بدھ کو مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی اور پورے معاملے کی جانچ کے لیے ایک سابق جج کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر وی روندرن، سابق آئی اے ایس افسران آلوک جوشی اور سندیپ اوبرائے کی سربراہی میں سائبر اور فارنسک ماہرین کی تین رکنی تکنیکی کمیٹی کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی آئندہ آٹھ ہفتوں میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گی۔ بنچ نے کہا ہے کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر ڈاکٹر اشونی انل کے علاوہ ڈاکٹر نوین کمار اور ڈاکٹر پرباہرن پی تکنیکی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

      سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کی پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ ان کی آزادی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ سپریم کورٹ آٹھ ہفتے بعد اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ دریں اثناء کمیٹی کو عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پیگاسس جاسوسی کیس میں مختلف مفاد عامہ عرضیوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 13 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔


      یہ مقدمہ ایک پرائیویٹ اسرائیلی کمپنی کے اسپائی ویئر سافٹ ویئر  (Pegasus Spying Case) سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر فون کے ذریعے ہندوستان کے معروف صحافیوں، وکلاء، کئی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جاسوسی سے متعلق ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ لوگوں کی گفتگو اور دیگر معلومات غیر قانونی طور پر لی گئی ہیں۔ جو ان کے پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: