உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عوام کو بچوں کے مستقبل کو سنوارنے والی پارٹی چاہئے جھوٹے خواب دکھانے والی نہیں: عآپ

     سنجے سنگھ نے کہا کہ آپ لوگوں نے سبھی سیاسی جماعتوں کو دیکھاہے اب ایک بار عاپ کو بھی موقع دیجئے یوپی کی سیاست میں تبدیلی بھی آئے گی اور لوگوں کے گھروں میں خوشحالی بھی ۔

    سنجے سنگھ نے کہا کہ آپ لوگوں نے سبھی سیاسی جماعتوں کو دیکھاہے اب ایک بار عاپ کو بھی موقع دیجئے یوپی کی سیاست میں تبدیلی بھی آئے گی اور لوگوں کے گھروں میں خوشحالی بھی ۔

    سنجے سنگھ نے کہا کہ آپ لوگوں نے سبھی سیاسی جماعتوں کو دیکھاہے اب ایک بار عاپ کو بھی موقع دیجئے یوپی کی سیاست میں تبدیلی بھی آئے گی اور لوگوں کے گھروں میں خوشحالی بھی ۔

    • Share this:
    عام آدمی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ و یوپی انچارج سنجے سنگھ نے عوام سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بچوں کے مستقبل کو سنوارنے والی پارٹی چاہئے جھوٹے خواب دکھانے اور لوگوں کا مذہبی جنون بھڑکانے والی پارٹی نہیں ۔ عاپ کے سربراہ اروند کیجریوال اسکول، اسپتال، محلّہ کلینک کی بات کرتے ہیں جبکہ مودی اور یوگی جی ہر جگہ شمشان بنانے کی بات کہتے ہیں۔ اب آپ لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ بچّوں کا مستقبل سنوارنے والی پارٹی چاہیے یا آپس میں لڑ واکر مذہبی جنون بھڑکانے والی پارٹی انسان کا انسان سے ہو بھائی چارہ، یہی پیغام ہمارا۔ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے یہ وضاحت بھی کی گئی کہ ہندوستان بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین سے چلےگا۔ مودی جی اور یوگی جی کی منمانی سے نہیں اس لئے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں بابا صاحب کا آئین پڑھایا جاتا ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آپ لوگوں نے سبھی سیاسی جماعتوں کو دیکھاہے اب ایک بار عاپ کو بھی موقع دیجئے یوپی کی سیاست میں تبدیلی بھی آئے گی اور لوگوں کے گھروں میں خوشحالی بھی۔

    دوسری جانب سماج وادی پارٹی نے بھی بی جے پی کے اقتدار کو ناکام ٹھہراتے ہوئے بڑھتے جرائم پر تشویش کا اظہار کیا ہے اتر پردیش میں آئین و قانون اور نظم و ضبط کے ابتر صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معروف لیڈر اور سماجی خدمتگار سید بلال نورانی نے کہا کہ آج اتر پردیش کے لوگ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں بہو بیٹیاں محفوظ نہیں قتل و غارت گری اور لوٹ مار عام ہے امن پسند لوگ پریشان ہیں اور حکومت صرف کاغذوں پر من مانے آنکڑے اور اعداد وشمار دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بنارہی ہے ۔ ابھی تک ارباب اقتدار یہ فیصلہ نہیں کرسکے ہیں ہیں کہ غریب اور پریشان حال لوگوں کو مندروں کی زیادہ ضرورت ہے یا اسکولوں ، تھانوں ، ملوں ، فیکٹریوں اور روزگار کی۔

    سنجے سنگھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ہمارے امیدواروں کے پاس بہت پیسہ نہیں ہے، آپ لوگ اُن کے لئے والنٹیئر بنیئے، اگر آپ نے دو روپئے کی بھی مدد کی تو ہمارے لیے بہت ہے۔ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں لوگ کیجریوال جی کا مذاق اڑاتے تھے کہ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت کے خلاف میدان میں اترے ہیں لیکن عوام نے کیجریوال جی کو ووٹ کیا اور شیلا دکشت کو شکست ہوئی۔ سنجیو جھا نے 50 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی اور راکھی بڑلان نے راجکمار چوہان کو شکست دی، یہ سب عوام کی وجہ سے ممکن ہوا۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سماج وادی پارٹی ، کانگریس ، عاپ اور بہوجن سماج پارٹی نے یہ الزامات بھی عائد کئے ہیں کہ اتر پردیش میں سرکاری افسران بی جے پی اراکین کی طرح کام کررہے ہیں ۔


    اگر اس صورت حال کو تبدیل نہ کیا گیا تو اسکے منفی اثرات آئندہ الیکشن کی پولنگ پر پڑ سکتے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی کی جانب سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو ضروری کارروائی کے لئے ایک خط بھی روانہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کچھ اہم افسروں کے ناموں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اس انداز کی شکایات پر چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کس طرح کے ردِّ عمل کا اظہار کیا جاتا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: