உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: ’مونکی پوکس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں‘ وائرولوجسٹ نے کہی اہم باتیں

    مونکی پاکس کی ایسی ہوسکتی ہے علامت

    مونکی پاکس کی ایسی ہوسکتی ہے علامت

    کانگ لندن کی رائل سوسائٹی کی فیلو کے طور پر منتخب ہونے والی پہلی ہندوستانی خاتون سائنسدان ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہم جنسی تعلقات (Homosexuality) بھی اس کا ایک سبب ہے، حالانکہ مونکی پاکس جلد کی وجہ سے زیادہ پھیلتا ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان کے سرفہرست وائرولوجسٹ اور ویکسین کے ماہر ڈاکٹر گگندیپ کانگ (Dr Gagandeep Kang) نے نیوز 18 ڈاٹ کام کو بتایا کہ عام آبادی کو مونکی پاکس کے انفیکشن کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان میں اب تک مونکی پوکس کے نو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں سے پانچ کیرالہ سے اور چار دہلی سے ہیں۔ اس میں نائجیریا کی ایک 31 سالہ خاتون بھی شامل ہے۔

      ڈاکٹر گگندیپ کانگ ویلور کے کرسچن میڈیکل کالج میں مائکروبیولوجی کے پروفیسر بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے مونکی پاکس کے انفیکشن کی وجہ سے بہت کم اموات دیکھی ہیں، ہمیں کچھ اور سمجھنے کے لیے کیسوں سے متعلق تفصیلی مطالعہ کی ضرورت ہے۔

      کچھ کیسوں سے متعلق انھوں نے کہا کہ اموات وائرل انسیفلائٹس (encephalitis) کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ دیگر اموات کینسر یا ایچ آئی وی والے لوگوں میں ہوئیں ہیں۔ ہر وائرس کے ساتھ نہ صرف مونکی پوکس انفیکشن ہے، بلکہ انسیفلائٹس کے امکانات ہوتے ہیں۔ وائرل انسیفلائٹس ایک وائرس کی وجہ سے دماغ کی سوزش ہے اور اس کی سب سے زیادہ ممکنہ پیچیدگی مستقل دماغی نقصان ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      آزادی کے 75 سال کے موقع پر خلا میں بھی لہرائے گا ترنگا، ISRO کی جانب سے ہوگی پیش رفت

      کانگ لندن کی رائل سوسائٹی کی فیلو کے طور پر منتخب ہونے والی پہلی ہندوستانی خاتون سائنسدان ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہم جنسی تعلقات (Homosexuality) بھی اس کا ایک سبب ہے، حالانکہ مونکی پاکس جلد کی وجہ سے زیادہ پھیلتا ہے۔
      یہ بھی پڑھیں:

      دنیا میں کتنے ہیں چار مینار؟، صرف یہاں دیکھیں دکنی زبان میں مختلف خبریں

      انھوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مونکی پوکس، اب صرف جنسی تعلقات کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ قریبی رابطے کی وجہ سے بھی پھیل سکتا ہے۔ ہمیں مریضوں کے معلوم جنسی رابطوں کا سراغ لگانے کی واضح ضرورت ہے۔ بصورت دیگر وسیع رابطے کا سراغ لگانا ایک مشکل کام ہوگا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: