உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پرسنل لا بورڈ کی علماء و دانشوروں سے TV channels کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کرنے کی اپیل 

     ان پروگراموں میں شرکت کر کے وہ اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت تو نہیں کر پاتے بلکہ بالواسطہ اپنی رسوائی اور اسلام ومسلمانوں کے استہزا کا سبب بن جاتے ہیں

    ان پروگراموں میں شرکت کر کے وہ اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت تو نہیں کر پاتے بلکہ بالواسطہ اپنی رسوائی اور اسلام ومسلمانوں کے استہزا کا سبب بن جاتے ہیں

    علما ء اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینلوں کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کر میں جس کا مقصد محض اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک اور استہزا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی: جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) حضرت مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ صدر بورڈ حضرت مولانا سیدمحمد رابع حسنی ندوی ، نائبین صدر بورڈ حضرت مولانا سید جلال الدین عمری صاحب ، حضرت مولانا کا کا سعید احمد عمری صاحب ، حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف صاحب ،حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب، جناب ڈاکٹر سید علی مد نقوی صاحب نے اپنے مشترکہ بیان میں علما ء اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینلوں کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کر میں جس کا مقصد محض اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک اور استہزا ہے ۔

    ان پروگراموں میں شرکت کر کے وہ اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت تو نہیں کر پاتے بلکہ بالواسطہ اپنی رسوائی اور اسلام ومسلمانوں کے استہزا کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ان پروگراموں کا مقصد بھی کسی تعمیری بحث کے ذریعہ کسی نتیجے تک پہنچنا نہیں ہوتا بلا محض اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانا اور بد نام کرنا ہوتا ہے ۔

    یہ چینلس اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لئے کسی مسلم چہرہ کو بھی اس بحث کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔ ہمارے علماء اور دانشور نادانستگی میں اس سازش کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم نے ان پروگراموں اور چینلس کا بائیکاٹ کیا تو نہ صرف اس سے ان کی TRP گھنٹے گی بلکہ وہ اپنے مقصد میں بھی بری طرح نا کام ہو جائیں گے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: