உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UTTAR-PRADESH: پرسنل لاء، کامن سول کوڈ اور ہمارے دستوری و جمہوری حقوق

    بار بار کامن سول کوڈ کی بات اچھالنے والے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ملک و آئین ودستور نے سبھی باشندوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تقلید و پاسداری بہ حسن و خوبی کر سکتے ہیں ۔

    بار بار کامن سول کوڈ کی بات اچھالنے والے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ملک و آئین ودستور نے سبھی باشندوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تقلید و پاسداری بہ حسن و خوبی کر سکتے ہیں ۔

    بار بار کامن سول کوڈ کی بات اچھالنے والے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ملک و آئین ودستور نے سبھی باشندوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تقلید و پاسداری بہ حسن و خوبی کر سکتے ہیں ۔

    • Share this:
    لکھنئو: ہندوستان میں دستور و جمہور اور آئین و قانون کی بالا دستی ہے اور یہی اس ملک کی شان و پہچان ہے۔ ہمارے دستور نے ہمیں کسی بھی مذہب کو ماننے اور اس کے طور طریقے اپنانے کی مکمل آزادی فراہم کی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ملک میں مختلف مذاہب مکاتب اور مختلف خیالات کے لوگ اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہتے آئے ہیں اور رہ رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ وقتاً فوقتاً کچھ متعصب ذہنیتوں اور شر پسند عناصر کے ذریعے غیر دستوری و غیر جمہوری بیانات دے کے ملک کی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور ماحول خراب کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں جن سے امن پسند لوگ تشویش میں بھی مبتلا ہوئے ہیں اور ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب بھی داغڈار ہوئی ہی ۔ لکھنئو کے تاریخی مدرسے سلطان المدارس میں منعقدہ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ، مجلس عاملہ کے اجلاس میں جن موضوعات اور مسائل پر تبادلہءِ خیال کیا گیا وہ واقعئ بہت اہم اور توجہ طلب ہیں۔

    مولانا صائم مہدی کی صدارت میں منومعقدہ اجلاس میں بورڈ کے جنرل سکرٹری اور ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ کامن سول کوڈ ، حجاب ، عبادت گاہوں کا تحفظ ،دستکاروں اور بے روزگاروں کے مسائل اور ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی یہ سب ایسے اہم اور حساس مسائل ہیں جن پر دانشوروں علماء کرام اور باوقار اداروں کے ذمہ داران کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یعسوب عباس کہتے ہیں کہ مسلمان ملک کے دستور کا ململ احترام کرتے ہیں عدلیہ میں اٹوٹ یقین رکھتے ہیں اور اپنے اپنے مسلک کے مطابق اپنے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں اور ایسا ہی دوسری اقلیتوں کے لوگ بھی کرتے آرہے ہیں پھر کامن سول کوڈ کی بات بار بار کیوں اچھالی جاتی ہے ، کبھی طلاق ، جہیز ، چار شادیوں اور کبھی حجاب کے نام پر نہ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان کی اہانتِ بھی کی جاتی ہے یہ دراز ہوتا سلسلہ کسی بھی ملک اور جمہوری نظام کے لیے بہتر نہیں ہے ۔

    GyanVapi Mosque Case: عدالت میں نہیں ہوئی پوری بحث، اب 30 مئی کو پھر ہوگی سماعت

    گیان واپی سمیت مختلف مساجد اور اہم مقدس مقامات کو لے کر جو فضا پروان چڑھائی جارہی ہے اس نے صاف اشارے دے دیے ہیں کہ کچھ شدت پسند لوگ نہ ملک کے دستور کو ماننے کو تیار ہیں اور نہ ان کی نگاہ میں عدلیہ کا کوئی احترام ہے ۔مولانا یعسوب عباس نے یہ بھی کہا کہ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ مستقل اپیلیں کررہا ہے لیکن آوازیں صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہیں لہٰذا جلد ہی کوشش کی جائے گی کہ ان حساس موضوعات و مسائل کو لے کر بورڈ کا وفد صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے ملاقات کر انہیں مسائل سے آگاہ کرے ۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا صائم مہدی نے کہا کہ بورڈ مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے باب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ان دیگر اہم تنظیموں کے ساتھ ہے جو کسی مسلکی تضاد کے بغیر ملک و ملت کی بہتری اور تحفظ کے لیے کوشاں ہیں ، شرپسند عناصر اور مذہبی بنیادوں پر سیاسی مفاد کے حصول کی کوششیں کرنے والے لوگ نہ ملک کے حق میں ہیں اور نہ عوام سے انہیں کوئی سروکار ہے ۔

    لکھنئو کے حسین آباد ٹرسٹ کے نظام کی از سر نو تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھنئو کے بے روزگار دستکاروں اور فنکاروں کی روزی روٹی کے لیے بھی بورڈ کے اجلاس میں آواز بلند کی گئی۔۔مولانا یعسوب عباس نے وزیر اعلیٰ اتر پردیش سے چکن ، آری ،زردوزی ، کامدانی اور دیگر فنون سے جڑے لاکھوں لوگوں کی طرف بھی نگاہ کرکے ان کے مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔۔واضح رہے کہ گھریلو اور چھوٹی صنعتوں کے تباہ ہونے سے آج لکھنئو اور ریاست کے دوسرے شہروں کے ہزاروں لوگ بے روزگاری کا شکار ہیں ۔ لکھنئو کی سڑکوں پر سیکڑوں دستکار اور فنکار کام نہ ہونے کے سبب رکشے چلانے پر مجبور ہیں نوجوان طبقہ مایوسی کی گرفت میں ہے خواتین مردوں کے اترے اور بجھے ہوئے چہرے اور خالی ہاتھ دیکھ کر تشویش و بے چینی میں مبتلا ہیں لہٰذا وزیر اعلیٰ کو ان لوگوں کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیے جس سے سب کے ساتھ اور سب کے وکاس کا نعرہ سچ ہو سکے اور غریب لوگ بھی امن و سکون سے دو وقت کی روٹی کھا سکیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: