ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلمانوں کے ایک سے زیادہ شادی کرنے پر لگے پابندی، معاملہ پہنچا سپریم کورٹ

مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دینے والی تعزیرات ہند کی دفعہ اور شریعت قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ ایک فریق کو تعدد ازدواج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں اس طرح تعدد ازدواج پر پوری طرح سے پابندی ہے۔

  • Share this:
مسلمانوں کے ایک سے زیادہ شادی کرنے پر لگے پابندی، معاملہ پہنچا سپریم کورٹ
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دینے والی تعزیرات ہند کی دفعہ اور شریعت قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ ایک فریق کو تعدد ازدواج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں اس طرح تعدد ازدواج پر پوری طرح سے پابندی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عرضی میں گہار لگائی گئی ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۔494 اور شریعت قانون کی دفعہ۔2 کے اس التزام کو غیر قانونی قرار دیا جائے جس کے تحت مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔


سپریم کورٹ میں عرضی گزاروں کی طرف سے ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 اور آئی پی سی کی دفعہ ۔ 494 مسلم مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے جو غیر آئینی ہے۔ عرضی گزار نے سپریم کورٹ سے مانگ کی ہے کہ ان التزامات کو پوری طرح سے غیر قانونی قرار دیا جائے۔


عرضی گزار نے سپریم کورٹ میں دلیل دی ہے کہ مسلم برادری کو چھوڑ کر ہندو، پارسی اور عیسائی مرد اگر بیوی کے رہتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو وہ آئی پی سی کی دفعہ ۔ 494 کے تحت قصوروار مانا جاتا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح دیکھا جائے تو مذہب کے نام پر دوسری شادی کی اجازت دینا تعزیرات ہند کے التزامات میں بھیدبھاو ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس طرح کا التزام آئین کے آرٹیکل۔ 14 برابری کا حق اور آرٹیکل۔15 ( مذہب اور ذات وغیرہ کی بنیاد پر بھید بھاو نہیں) کے التزام کی خلاف ورزی براہ راست طور پر خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ میں اپنی دلیل رکھتے ہوئے عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ۔ 494 کے تحت التزام ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بیوی کے رہتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو اسے ناجائز مانتے ہوئے ایسا کرنے والے شخص کو سات سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 05, 2020 08:49 AM IST