உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں  100 روپے کے پار پہنچے پٹرول پر لگتا ہے تقریبا 56 روپے کا سرکاری ٹیکس ، جانئے کیسے

    دہلی میں  100 روپے کے پار پہنچے پٹرول پر لگتا ہے تقریبا 56 روپے کا سرکاری ٹیکس ، جانئے کیسے

    دہلی میں  100 روپے کے پار پہنچے پٹرول پر لگتا ہے تقریبا 56 روپے کا سرکاری ٹیکس ، جانئے کیسے

    Petrol and Diesel Price in Delhi: دہلی میں پٹرول اور ڈیزل پر 55 فیصد سے زیادہ تقریبا 56 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ، جس میں مرکزی حکومت کو 32.90 روپے ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر اور دہلی حکومت کو ویٹ کے طور پر 22.80 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : مہنگائی کا سامنا کرنے والے عام آدمی کو ایک اور دھچکا لگا ہے ، یہاں تک کہ دارالحکومت دہلی میں بھی پٹرول کا دام اب 100 روپے سے تجاوز کر گیا ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پہلے ہی ملک کے بہت سارے حصوں میں قہر برپا کر رہی تھی ، لیکن کابینہ میں توسیع کی بحث و مباحثے کے درمیان دارالحکومت دہلی میں بھی پٹرول نے سنچری پوری کرلی ۔ پٹرول 35 پیسے اور ڈیزل 17 پیسے مہنگا ہوگیا ، اب آپ کو 1 لیٹر پیٹرول کی لئے100.21 روپے ادا کرنے پڑیں گے ۔ حالانکہ ڈیزل کے لئے89.53 روپے کی ہی ادائیگی کرنا پڑے گی ، بڑھتی افراط زر میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ  نے عام آدمی کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔ کیونکہ اس کا اثر ضرورت کی اشیاء پر پڑتا ہے اور تمام چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں ۔

    دہلی میں پیٹرول ڈیزل پر کتنا لگتا ہے ٹیکس

    دہلی میں پٹرول اور ڈیزل پر 55 فیصد سے زیادہ تقریبا 56 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ، جس میں مرکزی حکومت کو 32.90 روپے ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر اور دہلی حکومت کو ویٹ کے طور پر 22.80 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اسی طرح مرکز ڈیزل پر 31.80 روپے اور ریاستی حکومت کی جانب سے ڈیزل پر .4 13.4   کی وصولی کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد پٹرول پمپ مالکان کو تقریبا 4 روپے کا کمیشن مل جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عام آدمی حکومتوں سے منت سماجت مجبور ہوگیا ہے کہ ٹیکس کو کم کرکے قیمتوں کو کم کرنے کی کوششیں ہونی چاہئیں ۔

    پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست

    پیٹرول میں لگی آگ پر سیاست میں بھی شدت آگئی ہے ۔ کانگریس احتجاج کررہی ہے اور کل بھی کانگریس نے احتجاج کی کال دی ہے ۔ دراصل کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت کو گھیرنے میں لگی ہے ۔ اسی طرح مجلس اتحاد المسلمین دہلی نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کو عوام کی جیب پر کھلی  ڈکیتی اور لوٹ مار قرار دیا ہے۔

    تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ، اشیائے خوردونوش ، سبزیوں کا نقل و حمل کی قیمت میں اضافہ ہوتاہے اور چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں ۔ اس کا براہ راست اثر عوام کی جیبوں پر پڑتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ افراط زر میں اضافہ سے عام آدمی کے ہوش اڑ رہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: