உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی جی اسٹوری: 'اس رات وہ عجیب آوازیں نکال رہی تھی، میں نےدیکھا تواس نےمنہ بند کرلیا‘۔

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    ماسٹر بیٹ "( مشت زنی ) لفظ سے واقف تو ہوئی تھی پر پہلی مرتبہ آنکھوں سے دیکھنا بھیانک،عجیب تھا ۔میں جھٹ سے اپنی چادر میں سمٹ گئی۔

    • Share this:
      یہ کہانی 27 سال کی خوشبو کی ہے جو 19 سال کی عمر میں مرادآباد سے دہلی اپنے خوابوں کے ساتھ آئی تھیں ان آٹھ سالوں میں انہوں نے خوب زندگی اور شہر دیکھا ۔وہ میڈیا کمپنی میں کام رتی ہیں۔)۔

      گریجوئیشن کے دوران یوسف سرائے کے پی جی میں 18 مہینے رہی ۔ کسی کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا میرے مزاج میں شمار تھا۔ کوئی نخرہ نہیں۔ ان 18 مہینوں میں صرف دو ہی روم میٹس کے ساتھ رہی ۔ایک روم پارٹنر کے ساتھ 6 ماہ ،دوسری اور آخری کے ساتھ 1 سال رہی دوسری روم میٹ شادی شدہ تھی ۔کانپور سے تھی ۔شوہر کی نوکری بھی اسی شہر میں تھی ۔شادی کے محض 2۔3 ماہ بعد ہی وہ دہلی نفٹ سے ماسٹرس کرنے آئی۔

      لو میرج کی تھی اور شوہر کو بہت یاد کرتی تھی ۔پڑھائی میں انٹیلی جینٹ تھی ۔جس پہر بھی ہم ساتھ بیٹھتے ،وہ شوہر کا ذکر کرتی ۔ہم ایک دوسرے کی فیملی سے بھی روبرو ہو گئے تھے ۔ان کی کمی کو پورا کرنے کیلئے تو نہیں لین دل بہلانےکیلئے ایک دوسرے کے ساتھ خوب گھل مل کر رہتے ۔شام کو گھومنے جاتے ،ڈںر ساتھ کرتے ۔کچھ مہینوں میں ایک دوسرت سے مطمئن ہو گئے ۔

      وہ میرے، میں اس کے گھر سے آئی ہر چیز کو حق سے کھا لیا کرتے ۔کھانے کی چیزیں بھی شیئر میں لانے لگے ۔ایک دوسرے کی پسند نا پسند سے واقفیت اتنی ہو گئی تھی بغیر صلاح ۔مشورے کے مہینے بھر کیلئے اسنیکس لےآتے۔؎

      علامتی تصویر
      علامتی تصویر


      ایک دن میں چورن کی گولیاں لائی ۔ذائقے میں کھٹی ۔میٹھی سے ۔وہ بھی مزے سے کھاتی ۔عمر میں مجھ سے 4۔5 سال بڑی لرکی گولیاں کھاتے ہوئے اس بچے کی طرح بن جاتی کو اپنی چیز کسی کو نہیں دیتا۔وہ گولیاں اسے اتنی مزیدار لگیں کہ وہ اس کا برا پیکٹ لے آئی اور مجھ سے چھپا کر کھانے لگی ۔میں بالکنی میں ہوتی تو وہ کمرے میں ،میں بالکنی میں تو وہ کمرے میں اور مجھے سب معلوم تھا ۔مجھے نہ دینی پڑے وہ اس لئے ایسا کرتی اور کبھی کبھی بہت ساری گولیاں ایک ساتھ منھ میں رکھ لیتی ۔ پر زیادتی ہر چیز کی بری ہوتی ہے ایسا ہی کچھ گولیاں کھانے سے ہوا۔انہیں زیادہ کھانے پر پیٹ خراب ہو سکتا تھا۔ اور ہوا بھی ، اس نے کمرے میں ایسی بد بو مچنا شروع کی  کہ واش روم تو دور ،کمرے میں ٹھہرنا مشکل ہوتا۔

      چورن کی گولیوں سے نقصان

      زیادہ گولیاں کھانے سے اس کی جانگو مین پھوڑے نکل آئے ۔وہ کمرے میں بغیر کپڑوں کے سونے لگی ۔ایک رات فون پر کسی کو پھوڑے نکلنے اور بغیر کپڑوں کے سونے کی بات بتا رہی تھی ۔میں نے تب سنا ۔اس کے بعد سے میری کوشش ہوتی کہ میں اس کی طرف نہ دیکھوں جتنی مرعبہ اس پر نظر گئی وہ کمرے میں بغیر کچھ پہنے ،پاؤن پھیلا کر بیٹھی رہتی۔

      ایک رات کھجلی کی کر کراہٹ سے آنکھ کھلی ۔ پہلی بار اسے نیوڈ دیکھا ۔میں سو گئی ۔ایک آدھ گھنٹہ ہی گزرا ہوگا کہ پھر اس کے کراہنے کی آواز آئی ۔ منھ سے چادر ہٹاکر اسے دیکھا تو نظارہ  عجیب بھاینک تھا ۔وہ  ' مشت زنی ' کر رہی تھی۔

      مرادآباد سے دہلی آنے کے بعد "ماسٹر بیٹ  "( مشت زنی ) لفظ سے واقف تو ہوئی تھی پر پہلی مرتبہ آنکھوں سے دیکھنا بھیانک،عجیب تھا ۔میں جھٹ سے اپنی چادر میں سمٹ گئی۔
      First published: