உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لوک سبھا الیکشن: دہلی ہائی کورٹ میں فاروق، عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کےخلاف عرضی

    فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔

    فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔

    عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں لیڈروں نے ملکی مفاد کے خلاف جذبات بھڑکا نے کا کام کیا ہے۔ ساتھ ہی آئین کے خلاف بیان دیا ہے۔

    • Share this:
      نیشنل کانفرنس (این سی) کے لیڈرفاروق عبداللہ اوران کے بیٹےعمرعبداللہ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی گئی ہے۔ اس عرضی میں الیکشن کمیشن سے ان کےلوک سبھا الیکشن پرروک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پیپلز ڈیمو کریٹک فرنٹ (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی کےخلاف بھی یہ عرضی داخل کی گئی ہے۔

      عرضی میں کہا گیا ہےکہ ان تینوں لیڈروں نےملکی مفاد کےخلاف جذبات بھڑکانےکا کام کیا ہے۔ ساتھ ہی آئین کےخلاف بیان دیا ہے۔ اس سے قبل پیرکوفاروق عبداللہ نے پھرملک مخالف بیان دیا۔ انہوں نےکہا کہ آرٹیکل 370 کوختم کرنا جموں وکشمیراوریہاں کےلوگوں کےلئے آزادی کا راستہ صاف کرنا ہے۔

      پیرکوجاری ہوئے بی جے پی کے'سنکلپ پتر' میں آرٹیکل 370 ہٹانےکے ذکرپرفاروق عبداللہ نےکہا 'باہرسےلائیں گے، بسائیں گے، ہم سوتے رہیں گے'۔ ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔370 کوکیسےختم کروگے؟ اللہ کی قسم کہتا ہوں، اللہ کویہی منظورہوگا، ہم ان سے آزاد ہوجائیں۔ اللہ کی قسم کھاتا ہوں، اللہ کویہی منظورہوگا، ہم ان سے آزاد ہوجائیں، ہم بھی دیکھتے ہیں۔ دیکھتا ہوں پھرکون ان کا جھنڈا اٹھانےکےلئےتیارہوگا'۔

      واضح رہےکہ بی جے پی کےلوک سبھا الیکشن 2019 'سنکپ پتر'میں جموں وکشمیرکو خصوصی درجہ دینے والی آرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35اے ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ فاروق عبداللہ کےعلاوہ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی نے بھی آرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35 اے کوختم کرنےکی مخالفت کی ہے۔





      گزشتہ دنوں محبوبہ مفتی نے کہا تھا 'آگ سے مت کھیلو، آرٹیکل 35 اے سے چھیڑچھاڑمت کرو، ورنہ ملک میں جو1947 کے بعد سے نہیں ہوا تھا، وہ ہوگا'۔ محبوبہ مفتی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگراسے زبردست تھوپا گیا تومیں نہیں جانتی۔ جموں وکشمیرکےلوگ ترنگے کی جگہ کون سا جھنڈا تھامنے کومجبورہوجائیں گے۔
      First published: