ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شخص نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر کنر کے ساتھ کیا یہ غیر فطری شرمناک کام

الزام ہے کہ 10 ستمبر 2019 کو شام کو تقریبا 6 بجے تنویر اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ گھر میں زبردستی گھس آیا۔ تنویر اور اس کے دونوں ساتھیوں نے طمنچہ دکھاکر باری۔باری سے زبردستی اس کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات بنائے۔

  • Share this:
شخص نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر کنر کے ساتھ کیا یہ غیر فطری شرمناک کام
الزام ہے کہ 10 ستمبر 2019 کو شام کو تقریبا 6 بجے تنویر اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ گھر میں زبردستی گھس آیا۔ تنویر اور اس کے دونوں ساتھیوں نے طمنچہ دکھاکر باری۔باری سے زبردستی اس کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات بنائے۔

پیلی بھیت: یوپی کے پیلی بھیت ضلع کے پورنپور تھانہ علاقے میں کنر کے ساتھاجتماعی عصمت دری کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کورٹ کے حکم پر پورنپور کوتوالی میں تین لوگوں کے خلاف ریپ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ واقعہ اکتوبر 2019 کا بتایا جارہا ہے۔ پولیس نے آئی پی سی 452, 377, 323, 504 اور506 دفعات کے تحت معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔

آپ کو بتادیں کہ پورنپور تھانہ علاقے کے مقامی کنر نے ریپ کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ عدالت کے حکم پر معاملہ درج کیا گیا۔ شکایت میں تنویق حسن ( بیٹے نظارالحسن) اور اس کے دو نامعلوم ساتھیوں پر طمانچی دکھاکر جبراً ریپ کرنے کا الزام لگایاہے۔

ایف آئی آر کے مطابق تنویر حسن اور اس کے دوست نشیلی اشیا کی بکری کا کام کرتے ہیں اور کمزور طبقے کے لوگوں سے رنگ داری وصول کرتے ہیں۔ تنویر اور اس کے ساتھی کبھی۔کبھی اس کے یہاں بھی آکر طمنچہ دکھاکر ڈراکر روپئے چھین لے جایا کرتے تھے۔ ساتھ ہی پولیس کو اطلاع کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتے تھے۔

الزام ہے کہ 10 ستمبر 2019 کو شام کو تقریبا 6 بجے تنویر اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ گھر میں زبردستی گھس آیا۔ تنویر اور اس کے دونوں ساتھیوں نے طمنچہ دکھاکر باری۔باری سے زبردستی اس کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات بنائے۔ پولیس کو کچھ بھی بتانے پر جان سے مار دینے کی دھمکی دیکر چلے گئے۔ اس واقعے کی پولیس کو اطلاع دی دگئی لیکن تھانے میں رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ اس کے بعد ایس پی کو رجسٹرڈ ڈاک بھیج کر بات کہنے کے باوجود بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت مشرا نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر پورنپور تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

First published: Feb 08, 2020 11:03 AM IST