اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’راجستھان کانگریس ہوئی متحد، بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کویقینی بنانےپرتوجہ مرکوز‘ سچن پائلٹ

    یہ یاترا 21 دسمبر تک راجستھان میں رہے گی۔

    یہ یاترا 21 دسمبر تک راجستھان میں رہے گی۔

    پائلٹ نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں لوگوں سے یاترا میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ ’پورا راجستھان راہل جی کی بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لے رہا ہے۔ کیا آپ آ رہے ہو؟‘

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Rajasthan | Jammu | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      جیسے ہی راہول گاندھی کی قیادت والی بھارت جوڑو یاترا (Bharat Jodo Yatra) راجستھان میں داخل ہوئی، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ نے سبھی سے اس ’تاریخی‘ مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ ریاست میں داخل ہونے والی یاترا سے پہلے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور پائلٹ نے اپنے اختلافات اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے جاری کشمکش کے باوجود ایک متحد چہرہ پیش کیا۔ پائلٹ اور گہلوت برسوں سے تلخ حریف رہے ہیں، لیکن یہ معاملات 2020 میں اس وقت سامنے آئے جب سابق وزیر اعلیٰ گہلوت کی قیادت کے خلاف بغاوت کر دی۔

      کیا اس طرح کے آپسی اختلافات راجستھان کی یاترا کو متاثر کر سکتی ہے؟ ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے پائلٹ نے اتوار کو خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ پارٹی کی ریاستی اکائی مکمل طور پر متحد ہے۔ جہاں تک راہل گاندھی کی یاترا کا تعلق ہے، پارٹی میں مکمل اتفاق رائے ہے اور ہم اسے کامیاب بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے پائلٹ نے جھالاواڑ میں کہا کہ جس مسئلے پر راہل گاندھی نے یاترا نکالی ہے، لوگوں نے اسے جوش و خروش سے قبول کیا ہے۔ یاترا کے لیے لوگوں کی حمایت میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔

      24 نومبر کو گہلوت نے میڈیا کو بتایا کہ پائلٹ ایک ’’غدار‘‘ ہیں جنھیں وزیراعلیٰ نہیں بنایا جا سکتا۔ جوابی وار کرتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس ایک سینئر لیڈر کے لیے زیب نہیں دیتے۔ اس کے کچھ دن بعد کانگریس نے کہا کہ وزیر اعلی کے ذریعہ استعمال کیے گئے کچھ الفاظ غیر متوقع تھے لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو دور کیا جائے گا۔ راہول گاندھی نے بھی ان دونوں کو کانگریس کا اثاثہ قرار دیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      ہفتہ کے روز پائلٹ نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں لوگوں سے یاترا میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ ’پورا راجستھان راہل جی کی بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لے رہا ہے۔ کیا آپ آ رہے ہو؟‘

      واضح رہے کہ 3,570 کلومیٹر کا کراس کنٹری مارچ مدھیہ پردیش سے اتوار کو راجستھان میں داخل ہوا، وہ 7 ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوا اور پہلے ہی تامل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں کا احاطہ کر چکا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: