ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آگرہ میں بولے وزیر اعظم مودی: 2022 تک ہر کنبہ کے پاس اپنا گھر ہو گا

آگرہ ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج عام آدمی کو یہ بھروسہ دلایا کہ نوٹ منسوخی کی وجہ سے لوگوں کو ہو نے والی تکلیف بیکار نہیں جائے گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 20, 2016 08:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آگرہ میں بولے وزیر اعظم مودی: 2022 تک ہر کنبہ کے پاس اپنا گھر ہو گا
آگرہ ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج عام آدمی کو یہ بھروسہ دلایا کہ نوٹ منسوخی کی وجہ سے لوگوں کو ہو نے والی تکلیف بیکار نہیں جائے گی۔

آگرہ ۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے آج عام آدمی کو یہ بھروسہ دلایا کہ نوٹ منسوخی کی وجہ سے لوگوں کو ہو نے والی تکلیف بیکار نہیں جائے گی۔ اس کے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آئیں گے اور ملک سونے کی طرح کندن بن کر نکلے گا۔ مسٹر مودی نے یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ’پریورتن ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’نوٹ کی منسوخی کا اعلان کرتے وقت میں نے 50 دن کا وقت مانگا تھا۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ لوگوں کو کچھ پریشانی ہوگی لیکن میں حیران ہوں کہ تکلیف اٹھانے کے باوجود ہمیں لوگوں کا مکمل ’آشیرواد‘ مل رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’جو بھی غریب، قبائلی، کسان، مائیں، بہنیں تکلیفیں اٹھا رہی ہیں، میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی مشقت بیکار نہیں جائے گی ۔ ملک سونے کی طرح کندن بن کر نکلے گا‘‘۔ نوٹ کی منسوخی کی مخالفت کرنے والے اپوزیشن لیڈروں کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کا نام لئے بغیر کہا کہ چٹ فنڈ میں پیسہ لگانے والے اور ایم ایل اے کا ٹکٹ دینے کے لئے پیسے لینے والے اس منصوبہ بندی کو لاگو کرنے کی مخالفت میں ہم سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’چٹ فنڈ میں کیسے کیسے پیسے لگے تھے۔ اس میں کون کون لیڈر شامل ہیں۔ ساتھ ہی ایم ایل اے بننا ہے تو اتنا نوٹ لاؤ کہنے والے لوگ اب ہم سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ چٹ فنڈ میں پیسہ جمع کرنے والے بہت سے غریب مر گئے۔ یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے غریب اور متوسط ​​طبقے کو اس کا حق اور ملک کو کالی اقتصادی پالیسی سے چھٹکارا ملے‘‘۔


وزیر اعظم نے کہا کہ نوٹوں کے سیاہ كاروبار سے دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ سرحد پار سے دہشت گردوں کو انہی نوٹوں کے ذریعے مدد پہنچا کر فوج کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ کروڑوں کے جعلی نوٹ ملک میں پہنچا دیا گیا۔ اقتصادی دہشت گردی کو بھی نوٹوں کے سیاہ کاروبار سے بڑھائی جا رہی تھی۔ منشیات کی آمد بڑھ گئی تھی۔ نوجوان برباد ہو رہے تھے۔ نوٹ منسوخی سے اس کاروبار سے لوگوں کو جھٹکا لگا۔ انہوں نے سوال کیا، ’’کیا یہ سب ہونے دینا چاہئے۔ کب تک ملک چپ رہے گا‘‘۔ انہوں نے جن دھن یوجنا کے كھاتےداروں کو ہوشیار کیا اور کہا،’’مجھے پتہ چلا ہے کہ جن دھن یوجنا کے اکاؤنٹس میں ڈھائی لاکھ روپے جمع کروانے کے لئے کالے دھن والے غریبوں سے رابطہ کررہے ہیں۔ میں ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ میرے غریب بھائی کالے دھن کے کاروباریوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ اپنے اکاؤنٹ میں فنڈز نہ جمع کروائیں کیونکہ جانچ ہونے پر وہ نکل جائیں گے اور قانون سخت ہونے کی وجہ سے غریب پھنس جائیں گے‘‘۔


مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے نوٹ منسوخی کا فیصلہ نوجوانوں اور غریبوں کی قسمت تبدیل کرنے کے لئے کیا ہے۔ انہیں پورا بھروسہ ہے کہ منصوبے کامیاب ہوں گے اور ملک خوشحال ہوگا۔ مسٹر مودی نے چٹکی لی کہ جس شہر کو بجلی کا بل پانچ کروڑ روپے بھی نہیں ملتا تھا وہاں نوٹ کی منسوخی کے بعد 15 کروڑ روپے جمع ہو گئے۔ رہنماؤں اور بابوؤں کے چکر لگانے والے لوگ ہی مکمل لطف اٹھاتے تھے۔ غریب اور متوسط ​​طبقہ پریشان رہتا تھا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ یہ کام پہلے بھی ہو سکتا تھا لیکن ملک میں طویل عرصے تک راج کرنے والے لوگوں کو کرسی کی فکر تھی لیکن انہیں ان طبقوں کی فکر ہے جس کا ابھی تک کسی نے خیال ہی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اتر پردیش نے دم کے ساتھ غریب کے لئے رہنے مرنے والے انسان کو دہلی میں بٹھایا ہے۔ یہ لڑائی لمبی چلے گی اور مجھے غریبوں کے لئے لڑنے میں مزہ آتا ہے۔ میں غریبوں اور متوسط ​​طبقے کے لئے لڑونگا۔ پچاس دن تکلیفیں برداشت کر پائیں گے اور کالے دھن سے بڑھے لوگوں کے خلاف لڑائی جیت جائے گا‘‘۔ اس سے پہلے انہوں نے پانچ فائدہ اٹھانے والوں کو وزیر اعظم کا رہائشی منصوبہ الاٹمنٹ لیٹر سونپتے ہوئے اس کی منصوبہ بندی متعارف کرایا۔انہوں نے کہا کہ 2022 تک تمام غریبوں کے پاس اپنی رہائش گاہ ہوگی۔ ان کی حکومت نے اسی قرارداد کے ساتھ منصوبہ کی شروعات کی ہے۔ منصوبہ کے تحت 267 مربع فٹ زمین پر مکان بنے گا۔ اس میں بجلی، باورچی خانے، گیس، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی مکمل بندوبست کریں گے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ان رہائش گاہوں کے مستفیدین اگر خود اپنا مکان بنائیں گے تو بھی انہیں منریگا کے تحت اجرت دی جائے گی۔ اس سے غریب کو مکان کے ساتھ ہی پیسہ بھی مل جائے گا۔

First published: Nov 20, 2016 08:11 PM IST