ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لال کرشن اڈوانی کو 2019 لوک سبھا الیکشن لڑانا چاہتے ہیں نریندر مودی: رپورٹ

بی جے پی اپنے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے لئے طے کی گئی عمر کی بندش کو توڑتے ہوئے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں ایک بار پھر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لال کرشن اڈوانی کو 2019 لوک سبھا الیکشن لڑانا چاہتے ہیں نریندر مودی: رپورٹ
بی جے پی اپنے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے لئے طے کی گئی عمر کی بندش کو توڑتے ہوئے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں ایک بار پھر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: بی جے پی اپنے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے لئے طے کی گئی عمر کی بندش کو توڑتے ہوئے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں ایک بار پھر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔


بنگلہ اخبار آنند بازار پترکا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ اڈوانی آئندہ لوک سبھا الیکشن بھی لڑیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی جیسے دوسرے سینئر لیڈران کو بھی پارٹی آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اتار سکتی ہے۔


اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی نے 90 سالہ اڈوانی سے دہلی کے پرتھوی راج روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات بھی کی۔ وہیں پارٹی کے قومی صدر امت شاہ بھی یہ تجویز لے کر ان سے ملنے گئے تھے۔


اڈوانی نے گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں گجرات کی گاندھی نگر سیٹ سے درج کی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد وہ پارٹی میں ہاشیے پر ہی ہیں۔ اڈوانی اور جوشی کو بی جے پی پارلیمانی بورڈ میں بھی جگہ نہیں دی گئی۔ ان دونوں پارٹی کے مارگ درشک منڈل میں بھیج دیا گیا، جس میں ان کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی مودی، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور امت شاہ بھی شامل ہیں۔

ایسے میں بزرگ لیڈران کو لے کر بی جے پی کی سیاست کے پیچھے منطق یہ دی جارہی ہے کہ پارٹی امیدواروں کی عمر کی جگہ ان کی جیت کے امکانات کو دھیان میں رکھا جارہا ہے۔

گزشتہ ماہ ختم ہوئے کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی نے اپنے وزیراعلیٰ بی ایس پی یدی یورپا کے لئے عمر کی اس بند میں ڈھیل دی تھی۔

یہ تازہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب این ڈی اے کے کچھ اتحادی بی جے پی سے ناراض ہیں۔ چندر بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی جہاں این ڈی اے سے الگ ہوگئی، وہیں شیو سینا اور جے ڈی یو بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی مخالف جماعتیں قومی سطح پر اتحاد کی کوششوں کو رفتار دیتی نظر آرہی ہیں۔
First published: Jun 05, 2018 03:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading