உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India-Pakistan: پی ایم مودی نے پاک کے نئے پی ایم کو دی مبارکباد ،ٹوئٹ کرکے کہی یہ باتیں

    
Pakistan New PM: وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا کہ، "شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد۔ ہندوستان دہشت گردی سے پاک، علاقے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، تاکہ ہم اپنے ترقیاتی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔

    Pakistan New PM: وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا کہ، "شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد۔ ہندوستان دہشت گردی سے پاک، علاقے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، تاکہ ہم اپنے ترقیاتی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔

    Pakistan New PM: وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا کہ، "شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد۔ ہندوستان دہشت گردی سے پاک، علاقے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، تاکہ ہم اپنے ترقیاتی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔

    • Share this:
      پی ایم مودی نے پاکستان کے نئے وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا کہ، "شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد۔ ہندوستان دہشت گردی سے پاک، علاقے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، تاکہ ہم اپنے ترقیاتی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔" شہباز نے رات 10 بجے کے قریب وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔

      قبل ازیں شہباز شریف نے وزیراعظم منتخب ہونے کے فوراً بعد خارجہ پالیسی پر اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر یہ حاصل نہیں ہو سکتا۔


      پاکستان نئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب دہشت گردوں نے ہندوستان میں پانچ دھماکے کر کے ہندوستان کے دانت کھٹے کیے تھے اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا تو سعودی عرب نے ہمارا ساتھ دیا۔ مسئلہ کشمیر سعودی عرب کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔

      پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے حق میں پارلیمنٹ میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ اس دوران تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے گئے عمران خان کی پارٹی کا ایک بھی رکن اسمبلی ایوان میں موجود نہیں تھا۔ 342 رکنی ایوان میں جیت کے لیے کم از کم 172 ارکان کی حمایت درکار تھی
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: