உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم نریندر مودی کا خصوصی انٹرویو: معیشت سے لے کر کشمیر پر بیباکی سے بولے

    وزیر اعظم نریندر مودی نے نیٹ ورک 18 کو خصوصی انٹرویو دیا ہے ۔ اس میں یوپی انتخابات ہوں یا دلتوں پر مظالم کا معاملہ ، معیشت سے متعلق سوالات ہوں یا کشمیر تشدد ، وزیر اعظم مودی نے بڑی ہی بے باکی سے اپنی رائے رکھی ۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے نیٹ ورک 18 کو خصوصی انٹرویو دیا ہے ۔ اس میں یوپی انتخابات ہوں یا دلتوں پر مظالم کا معاملہ ، معیشت سے متعلق سوالات ہوں یا کشمیر تشدد ، وزیر اعظم مودی نے بڑی ہی بے باکی سے اپنی رائے رکھی ۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے نیٹ ورک 18 کو خصوصی انٹرویو دیا ہے ۔ اس میں یوپی انتخابات ہوں یا دلتوں پر مظالم کا معاملہ ، معیشت سے متعلق سوالات ہوں یا کشمیر تشدد ، وزیر اعظم مودی نے بڑی ہی بے باکی سے اپنی رائے رکھی ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      وزیر اعظم نریندر مودی نے نیٹ ورک 18 کو خصوصی انٹرویو دیا ہے ۔ اس میں یوپی انتخابات ہوں یا دلتوں پر مظالم کا معاملہ ، معیشت سے متعلق سوالات ہوں یا کشمیر تشدد ، وزیر اعظم مودی نے بڑی ہی بے باکی سے اپنی رائے رکھی ۔ نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر راہل جوشی کے ساتھ خاص بات چیت میں وزیر اعظم مودی نے اپنی زندگی کے کچھ ان کہے پہلوؤں کو بھی شیئر کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کس سے حوصلہ افزا ہوتے ہیں اور انہیں اتنا کام کرنے کی توانائی کہاں سے ملتی ہے ۔


      راہل جوشی :  وزیر اعظم جی ، آپ کا بہت بہت شکریہ نیٹ ورک 18 کو خصوصی انٹرویو دینے کے لئے ۔


      راہل جوشی میرا پہلا سوال براہ راست اور سادہ ہے ۔ آپ کو دو سال پہلے واضح اکثریت سے آئے ، فیصلہ کن اکثریت سے آئے اور آپ وزیر اعظم بنے ۔ آپ اپنے وزیر اعظم بننے تک کے سفر کو کس طرح دیکھتے ہیں اور سب سے بڑی کامیابی کیا مانتے ہیں؟


      نریندر مودی : وزیر اعظم کی ذمہ داری ملنے کے بعد تقریبا سوا دو سال گزر گئے ہیں ۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے ملک میں عوام وقتا فوقتا حکومتوں کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ میڈیا بھی تجزیہ کرتا ہے اور آج کل تو پروفیشنل سروے بھی اس کا تجزیہ کرتے  ہیں ۔


      میں اس کو اچھا سمجھتا ہوں اور اس لئے میں عوام کے اوپر ہی چھوڑ دیتا ہوں کہ وہی تجزیہ کریں کہ میری حکومت کیسی رہی ؟ لیکن میں یہ ضرور چاہوں گا کہ جب بھی میری حکومت کا آپ تجزیہ کریں ، تو ہمیں دہلی حکومت میں آنے سے پہلے حکومت کا حال کیا تھا ، ملک کا حال کیا تھا ، میڈیا میں کن باتوں کی بحث ہوا کرتی تھی؟ اس کو بھی ذہن میں رکھیں ۔


      اگر اس پرایک مرتبہ ہم نظر ڈالیں گے ، تو ہمارے ذہن میں آئے گا کہ بھائی پہلے اخبار بھرے رہتے تھے بدعنوانی کی باتوں سے ، پہلے اخبار بھرے رہتے تھے مایوسی کی باتوں سے، آئے دن ہر ہندوستانی کے دل و دماغ سے مایوسی کا سر نکلتا تھا ۔ سب کچھ ڈوب چکا ہے ، اب چلو گزارا کر لیں ، یہی تاثرات تھے ۔ کوئی کتنا ہی اچھا ڈاکٹر کیوں نہ ہو ، لیکن مریض اگر مایوس ہے ، تو ادویات اسکو کھڑا نہیں کر پاتی ہیں اور اگر مریض کو یقین ہے تو ایک آدھ بار ڈاکٹر تھوڑا دم سے اوپر کوالٹی سے نیچے کا بھی ہو ، تو بھی وہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ہمت کے ساتھ چند ہفتوں میں وہ چلنے پھرنے لگتا ہے اور اس کی وجہ اس کے اندر کا اعتماد بحال ہوجاتا ہے ۔


      حکومت بننے کے بعد میری پہلی کوشش یہی رہا کہ مایوسی کے ماحول کو ختم کیا جائے ۔ ملک میں امید اور اعتماد پیدا کیا جائے اور یہ صرف تقریروں سے نہیں ہوتا ہے ۔ قدم اٹھانے پڑتے ہیں ۔ کر کے دکھانا پڑتا ہے اور آج سوا دو سال کے بعد میں اتنا تو ضرور کہہ سکتا ہوں کہ نہ صرف ہندوستان کے لوگوں کے دل میں ایک اعتماد پیدا ہوا ہے ، بلکہ دنیا بھر کے لوگوں میں ہندوستان کے لوگوں کے تئیں اعتماد بڑھا ہے ۔


      راہل جوشی : ترقی کے ایجنڈہ کے معاملے پر ملک میں آپ کی حکومت آئی ... تو میرے اگلے کچھ سوالات معیشت سے متعلق ہوں گے ... کیونکہ آپ کافی مشقت کے بعد جی ایس ٹی بل منظور کرنے میں کامیاب ہوئے ... کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ اس کو کتنی بڑی کامیابی مانتے ہیں اور اس سے ملک کے عام آدمی کو کیا فائدہ ملے گا ؟


      نریندر مودی : ملک آزاد ہونے کے بعد فائنانس اور ٹیكسیشن نظام میں جو ریفارم ہوئے ہیں ، شاید یہ آزاد ہندوستان کا سب سے بڑا ریفارم ہے اور اس ریفارم سے ہندوستان میں تو بہت بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ ہمارے ملک میں بہت کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں ۔ کچھ لوگ اس لئے دیتے ہیں کہ دل میں حب الوطنی ہے کہ بھائی ملک کے لئے مجھے کچھ کرنا چاہئے ۔کچھ اس لیے دیتے ہیں کہ بھائی کبھی قوانین توڑنا نہیں چاہیے ۔


      دوسرا آج بھی آپ آج ہوٹل میں کھانا کھائیں گے تو بل آئے گا ، بل کے ضروری سیس، یہ سیس، وہ سیس ۔ وہاٹس ایپ پر لوگ بھیجتے ہیں کہ بل اور اتنا سیس ۔ یہ سب ختم ہوجائے گا اور ایک دم سب کچھ آسان ہو جائے گا ۔


      ہم دیکھتے ہیں کہ اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ چیک پوسٹ ہیں اور وہاں میلوں تک ہماری گاڑیاں کھڑی ہیں اور جب کوئی وہیکل کھڑے رہتے ہیں ، تو ملک کی معیشت کو کافی نقصان ہوتا ہے ۔ اب اس وجہ سے وہ سیم لیس ہو جائے گا اور ایک دوسری ریاست سے مال آنا جانا آسان ہو جائے گا ۔ ٹیكسیشن نظام کے طریقے بھی آسان ہو جائیں گے اور اس وجہ سے مشکلات تو دور ہوں گی ہی ، ملک کا ریونیو بھی بڑھ جائے گا ۔


      آج کبھی کبھی مرکز اور ریاستوں کے درمیان عدم اعتماد ہوتا ہے ۔ جی ایس ٹی کے بعد وہ عدم اعتماد کا ماحول بھی ختم ہو جائے گا ۔ کیونکہ ایک ہی قسم کا ٹیكسیشن نظام ہوگا ۔ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے؟  ۔


      راہل جوشی : اقتدار میں آنے کے بعد آپ کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت تھی ... آپ کے لئے صرف یہی ضروری نہیں تھا کہ آپ معیشت کو پٹری پر لائیں ... اس کو تیز رفتاری سے آگے بھی بڑھائیں ... کیا کامیابی حاصل کی آپ نے اس شعبہ میں؟


      نریندر مودی : آپ کی بات صحیح ہے کہ ایک قسم کا منفی ماحول تھا اور اس کے اثرات بھی بہت زیادہ تھے ۔ ملک کے تاجر اور صنعت کار سب ایک پاؤں باہر رکھ چکے تھے ۔ حکومت میں ایک قسم کے پیرالسس کی صورتحال تھی ۔ ایک طرف تو یہ ماحول تھا ۔


      دوسری طرف جب ہم آئے تو مسلسل ہمیں دو سال خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا ۔ پانی کا بحران ، تیسری مشکل یہ آئی کہ دنیا میں کساد بازاری کا دور ایک دم سے ابھر کر آیا گیا ،  ایک کے بعد ایک چیلنجز سامنے آتے گئے ۔


      صرف پہلے چیلنج تھے ایسا نہیں ، آنے کے بعد بھی چیلنجز آئے ، لیکن ارادہ نیک تھا ، پالیسیاں واضح تھیں ، نیت صاف تھی ، فیصلہ کرنے کا حوصلہ تھا ، کیونکہ کوئی ویسٹیڈ انٹریسٹ نہیں تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مثبت ماحول بہت تیزی سے بڑھنے لگا ۔ آج آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ اسی عرصے میں آیا ۔ ورلڈ بینک ہو، آئی ایم ایف ہو، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ہوں ، یہ سب کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے ۔


      اس مرتبہ موسم بھی اچھا ہے ، بارش ٹھیک ہوئی ہے اور ہندوستان کی معیشت کو موسم اور ایگریکلچر کافی توانائی بخشتا ہے ۔ ڈرائیونگ فورس ہے ۔ اس کی وجہ سے اور زیادہ جوش بڑھا ہے ، جو آنے والے دنوں میں بڑا تابناک رہے ۔


      راہل جوشی : آپ نے ایک دم ٹھیک کہا کہ مانسون کی وجہ سے اور جوش و خروش آیا ہے ... شیئر مارکیٹ میں بھی تیزی آئی ہے ... کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ نیكسٹ ویو آف ریفارمس کیا ہوگا؟


      نریندر مودی : پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جو بڑی بحث میں آیا ، اسی کو ریفارم مانتے ہیں اور اگر وہ بحث میں نہیں آیا ، تو کہتے ہیں کہ ریفارم نہیں ہوا ۔ یہ ہماری جہالت کو بھی بیان کرتا ہے ۔ درحقیقت ریفارم ٹو ٹرانسفارم ، یہ میرا منتر ہے اور میں میری حکومت سے تو کہتا ہوں ریفارم ، پرفارم اینڈ ٹرانسفارم  اور اگر آج انٹرویو میں بیٹھا ہوں تو میں یہ بھی کہوں گا کہ ریفارم، پرفارم، ٹرانسفارم  اینڈ انفارم ۔


      کافی تیزی سے ہماری درجہ بندی سدھر رہی ہے ۔ یہ ریفارم کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔  اب اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا ہے کہ ہندوستان جہاں 10 نمبر پر ہے ، شاید اگل 2 سال میں وہ نمبر 3 پر آ جائے گا ۔ یہ چیزیں چھوٹی چھوٹی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں کہ جس کو بہتر بنانا ہے ۔ لائسنس راج آج بھی کہیں نہ کہیں نظر آتا ہے ۔ اس سے نجات دلانی ہے ۔


      کئی اہم ریفارم ہر سطح پر ہو رہے ہیں ۔ انتظامیہ کے سطح پر ہو رہے ہیں ، گورننس کے لیول پر ہو رہے ہیں ، قانون کے طور پر ہو رہے ہیں ، اب جیسے 1700 کے قریب قانون ہم نے ایسے نکالے ہیں ، جو 19 ویں صدی کے 20 صدی کے قانون لے کر ہم بیٹھے تھے ۔ ایک قانونی جنگل تھا ۔ پارلیمنٹ کے اندر شاید ہزار بارہ سو سے تو نجات مل گئی ، دیگر سے بھی مل جائے گی ، میں نے ریاستوں کو بھی کہا ہے ۔ یہ بہت بڑے ریفارم ہیں ، جس کو لوگ معلومات کے فقدان میں ریفارم مانتے نہیں ۔ ایک تو یہ کام ہے ۔


      اب دیکھئے تعلیم کے شعبہ میں ، ہم نے ایک ایسا ایک اہم قدم اٹھایا ہے ، جس کی طرف کسی کا ذہن نہیں گیا ، ہم نے کہا ہے کہ يونورسٹيز ... 10 سرکاری، 10 پرائیویٹ ... یہ یو جی سی کے سارے قوانین سے باہر نکال دیں گے ہم ۔ وہ اپلائی کریں. ہم اوپر سے ان کو اضافی پیسہ بھی دیں گے اور وہ ورلڈ کلاس یونیورسٹی بننے کی سمت میں ہمیں کیا کر کے دکھاتے ہیں ۔ قوانین کی وجہ سے پریشانی ؟ چلو قوانین نہیں ... اب کرکے دکھائیں ۔ یہ بہت بڑا ریفارم ہے ، لیکن لوگوں کی توجہ بہت کم جاتی ہے ۔


      راہل جوشی : معاشی اصلاح کافی ہوا ہے ، لیکن اس کے باوجود پرائیویٹ سرمایہ کاری اب بھی تھوڑی سست رفتار ہے ۔ کچھ سیکٹر ایسے ہیں جو اب بھی قابو میں نہیں ہیں ، جیسے ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہو گیا ، وینچر کیپٹل فنڈنگ ​​بھی سست ہو گئی ہے ، آپ پرائیویٹ صنعت اور غیر ملکی سرمایہ کار کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟


      نریندر مودی : میں نے دیکھا ہے، شاید آپ نے عزت کی وجہ سے ایک سوال مجھ سے نہیں پوچھا ، زیادہ تر لوگ پوچھ لیتے ہیں کہ مودی جی سوا دو سال میں ایسی کون سی غلطی کی آپ نے ، تو آج جب میں سوچتا ہوں ، تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے حکومت بنانے کے بعد پہلا بجٹ پیش کرنے سے پہلے پارلیمنٹ میں ملک کی اقتصادی صورت حال پر ایک قرطاس ابیض پیش کرنا چاہئے تھا ۔ یہ خیال بھی آیا تھا ، لیکن میرے سامنے دو راستے تھے ۔


      سیاست مجھے کہتی تھی کہ مجھے سارا کچا چٹھا کھول دینا چاہئے ، ملکی مفاد مجھے کہتا تھا کہ سیاسی طور پر تو بہت فائدہ ہو گا ، لیکن ملک میں سب لوگ جب اتنی حالت خراب ہے ، یہ جان جائیں گے ، تو پوری طرح مایوس ہو جائیں گے، بازار گرجائے گا ، ملک کی معیشت کو بڑا دھکا لگے گا ، عالمی سطح بھی ملک کو دیکھنے کی سوچ بدل جائے گی ... اس میں سے پھر باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا ، تو سیاسی نقصان برداشت کر کے قوم کے مفاد میں ابھی چپ رہنا اچھا ہے  اور اس وقت  بینکوں کے این پی اے کا حال کیا تھا ۔


      بجٹ میں کس طرح سے اعداد و شمار ادھر ادھر کئے گئے تھے ... اقتصادی حالات ، یہ ساری چیزیں یہ میں نے ملک کے سامنے نہیں رکھیں ، ہمیں نقصان ہوا ، ہماری تنقید بھی ہوئی  اور آج جو کچھ بھی میں برداشت کررہا ہوں یا ڈھو رہا ہوں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میری وجہ سے ہے ... مجھے گالیاں کھانی پڑ رہی ہیں ، لیکن شاید سیاسی نقصان برداشت کر کے بھی ملکی مفاد کی راہ پر جانے کا میں نے فیصلہ کیا  اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں چیزوں کو درست کر پا رہا ہوں ۔  خرابیوں کو دیکھ کر اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔


      راہل جوشی : مودی جی کچا چٹھا تو ایک طرح سے آپ نے کھول ہی دیا ... کافی لوگ کہتے ہیں کہ بلیک منی کو کریک ڈاؤن کرکے چھوٹے موٹے تاجر یا تو دبئی میں یا لندن میں چھپے ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ پولیٹیکل ڈائنیسٹیز کو بھی آپ نے نہیں چھوڑا ... تو کیا یہ عمل جاری رہے گا ؟


      نریندر مودی : پہلی بات ہے کہ ابھی تک سیاسی نقطہ نظر سے نہ میں نے سوچا ہے، نہ میں سوچوں گا ، میں 14 سال تک ایک ریاست کا وزیر اعلی رہ کر آیا ہوں ... اور تاریخ گواہ ہے کہ میں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک بھی فائل کبھی کھولی نہیں تھی اور مجھ پر ایسا الزام کبھی نہیں لگا ۔ یہاں بھی مجھے سوا دو سال ہوگئے ہیں ، حکومت کی طرف سے کوئی فائل کھولنے کی ہدایت نہیں دی ۔ قانون اپنا کا کام کرے گا ، مجھے لیپا پوتی کرنے کا بھی حق نہیں ہے ، قانون اپنا کام کرے گا ، تو کسی کو ہم نے نہیں چھوڑا ، یہ اینالسس صحیح نہیں ہے ۔


      دوسری بات یہ ہے میری حکومت بننے کے بعد پہلے ہی دن میری حکومت کی پہلی کابینہ کا پہلا فیصلہ تھا ، جو چار سالوں سے التوا میں پڑا تھا ، پرانی حکومت میں سپریم کورٹ کے کہنے کے بعد التوا میں پڑا تھا اور وہ تھا بلیک منی کو لے کر ایس آئی ٹی بنانا ۔ ہم نے ایس آئی ٹی بنا دی ، ایس آئی ٹی کام کر رہی ہے ، سپریم کورٹ اس کی نگرانی کر رہا ہے  اور ہم اس کام کو ... دوسرا اہم کام ہوا کہ بلیک منی کے خلاف ایسا قانون بنا ہے کہ اب ہندوستان سے کوئی بیرون ملک روپے بھیجنے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے ۔ تو یہ تو ایک کام ہو گیا کہ نیا بلیک منی کا کھیل ختم ہو گیا ۔


      دوسرا ہندوستان میں جو کالا دھن ہے ، اس کے لئے ہم نے کافی قانون تبدیل کئے ہیں ۔ 30 ستمبر تک کی ایک اسکیم چل رہی ہے ، اگر کسی کو اب بھی مرکزی دھارے میں آنا ہے تو ہم موقع دینا چاہتے ہیں  اور میں نے عوامی طور پر کہا ہے کہ 30 ستمبر آپ کے لئے آخری تاریخ ہے ۔ کسی نہ کسی وجہ سے اگر آپ سے غلطی ہو گئی یا کچھ غلط ہو گیا ہے ، جان بوجھ کر کیا یا انجانے میں کیا یہ موقع ہے ، آپ مرکزی دھارے میں آ جائیے ۔ میں چین کی نیند لینے کا موقع لے کر آیا ہوں ، اس کو قبول کیجئے اور 30 ​​تاریخ کے بعد میں کوئی سخت قدم اٹھاتا ہوں ، تو کوئی مجھے قصور وار نہیں گردان سکتا ہے ۔ملک کے غریب عوام کا پیسہ ہے ، اس کو لوٹنے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔ اور یہ میرا کمٹمنٹ ہے ۔ میں پوری شدت سے لگا ہوا ہوں اور کوشش جاری رکھوں گا ۔


      راہل جوشی : وزیر اعظم جی  معیشت سے ہٹ کر تھوڑی سیاست کی بات کرتے ہیں ... اگلے سال کافی ریاستوں کے انتخابات ہونے والے ہیں ، سماجی امتیاز اور مذہبی تعصب ایک بار پھر اپنا سر اٹھا رہا ہے ۔ دلت اور پسماندہ طبقے کے لوگ تو یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ بی جے پی اور سنگھ دلت مخالف ہے ۔ تو آپ کس طرح اس بات کا یقین دلائیں گے ہم وطنوں کو کہ آپ کا ایشو صرف ترقی اور ترقی ہی ہے؟


      نریندر مودی : ملک کو تو پورا اعتماد ہے کہ ہمارا ایشو ترقی ہی ہے ... ملک کے عوام میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے لیکن جو لوگ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ایسی حکومت بنے ، جو لوگ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ پچھلی والی حکومت جائے ، ان کو پریشانیاں ہورہی ہیں ۔ تو ترقی ہی ہمارا ایشو ہے ... یہ کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے ، یہ میرا كنوكشن ہے کہ ملک میں اگر غربت سے نجات چاہئے تو ترقی کرنی پڑے گی ۔ ملک کے غریبوں کو امپاور کرنا پڑے گا ، جہاں تک کچھ واقعات کا سوال ہے ، یہ قابل مذمت ہیں ، کسی بھی مہذب معاشرے کو ایسے واقعات زیب نہیں دیتے ۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کا موضوع ہوتا ہے ۔


      ہم چنندہ چیزوں کو اچھال کر مودی کے گلے ڈالنے کی سازش کر رہے ہیں ، ایسا کرنے والوں کا کیا مفاد وابستہ ہے ، یہ تو میں نہیں جانتا ، لیکن اس سے ملک کو نقصان ہوتا ہے ۔ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں ، اگر اعداد و شمار کی بات کریں  فرقہ وارانہ تشدد ہو، دلت بھائی بہنوں پر ظلم ہوں ، قبائلیوں پر ظلم وستم ہوں ، گزشتہ حکومت کے مقابلے میں اس حکومت کے میں کافی کم ہوئے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ کی حکومت میں کیا ہوا ، میری حکومت میں کیا ہوا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ مہذب سماج کے ناطے ہمیں یہ زیب نہیں دیتا ہے ۔


      میں نے لال قلعہ کی فصیل سے کہا تھا کہ ماں باپ ذرا اپنے بیٹوں سے پوچھیں وہ کہاں جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔ بیٹیوں سے تو ہم پوچھ رہے ہیں ، ہمارے معاشرے میں یہ تبدیلی کے لئے میں میڈیا سے بھی اپیل کرتا ہوں  کیونکہ اس ملک میں میڈیا کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے ۔ میں پھر سے ایک بار اپیل کرتا ہوں کہ معاشرے میں ہمارے تانے بانے بکھر جائیں ایسی خبروں کو کس طور پر لینا ، کس طور پر نہ لینا ، کتنا لینا اور کتنا نہ لینا ایک بار بیٹھ کر غور کر لیں ۔ خود کریں اور ان کو لگتا ہے کہ صحیح کرتے ہیں ، تو ان کو مبارک ہو اور ان کو صحیح نہیں لگتا ہے ، تو ملک کے مفاد کے لئے معاشرے کے اتحاد کے لئے ہم مثبت چیزوں کا نمایاں کریں ۔ اب جیسے حفظان صحت کا مسئلہ ہے ، میں نے دیکھا ہے کہ میڈیا نے مثبت ماحول پیدا کیا ہے ۔


      راہل جوشی : مودی جی آپ کی نظر میں معاشی پروگراموں کے لئے سوشل ہارمنی کتنی ضروری ہے؟


      نریندر مودی : صرف معاشی پروگراموں کے لئے نہیں ، امن و چین کے لئے ۔ یہ ہر معاشرے کے لئے لازمی ہے ۔ خاندان میں بھی آپ مالی طور پر کتنے ہی امیر خاندان کیوں نہ ہوں ، اربوں کھربوں روپے کے ڈھیر پر بیٹھے ہوں ، پھر بھی خاندان میں اتحاد ضروری ہے ۔ ویسا ہی سماج میں ہے ، صرف غربت ہے ، اس لئے اتحاد ضروری نہیں ہے بلکہ ہر حالت میں اتحاد ضروری ہے ۔


      راہل جوشی : سبھی سیاسی پارٹیاں غربت ختم کرنے کی باتیں کرتی ہیں ، مگر غربت ہمارے ملک میں باعث تشویش حد تک  بڑھتی جا رہی ہے ... ملازمتیں بھی آپ کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور آپ نے اس پر نظر بھی ركھی ہوئی ہے ۔ ان دونوں چیزوں کو لے کر آگے آپ کی کیا حکمت عملی رہے گی؟


      نریندر مودی : آپ کی بات درست ہے کہ غربت ہمارے ملک میں ایک سیاسی نعرہ رہا ہے ۔ غریبوں کے نام پر سیاست بھی بہت ہوئی ہے  اور انتخابات کو ذہن میں رکھ کر غریبوں کے نام پر کچھ اقتصادی پروگرام بھی چلائے گئے ہیں ۔ میں وہ اچھا تھا ، برا تھا ، اس تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتا ۔ لیکن میرا راستہ کچھ اور ہے ۔ غربت سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں غریبوں کو امپاور کرنا ہوگا ۔ اگر غریب بااختیار ہوتا ہے ، تو اس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ غربت کو ختم کر دے گا ۔

      First published: