ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزیر اعظم کا اکاؤنٹ سنبھالنے والی 7 خواتین کے کیا ہیں کارنامے، جانئے یہاں

وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر اور انسٹاگرام صفحات پر ان خواتین کے مختصر ویڈیو شئیر کئے اور ان کی حصولیابیوں کے ویڈیو اپنے فیس بک پیج پر شئیر کئے۔

  • Share this:
وزیر اعظم کا اکاؤنٹ سنبھالنے والی 7 خواتین کے کیا ہیں کارنامے، جانئے یہاں
نریندر مودی کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ آبی تحفظ سے لے کر دویانگوں کے حقوق سمیت مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی سات خواتین نے کل یوم خواتین پر وزیر اعظم نریندر مودی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی کمان سنبھالی۔ وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر اور انسٹاگرام صفحات پر ان خواتین کے مختصر ویڈیو شئیر کئے اور ان کی حصولیابیوں کے ویڈیو اپنے فیس بک پیج پر شئیر کئے۔ ان کی حصولیابیوں کے ساتھ انہوں نے ہیش ٹیگ ’ شی انسپائرس اس‘ بھی لگایا۔



اپنی ماں سے ترغیب پا کر سنیہا موہن دوس نے’ فوڈ بینک انڈیا‘ نام سے ایک پہل شروع کی ہے۔ بھوک مٹانے کے لئے وہ ہندوستان کے باہر کے کئی سویم سیوکوں کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں۔

انہوں نے مودی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا’’ ہماری 20 سے زائد شاکھائیں ہیں اور اپنے کام سے کئی لوگوں پر ہم نے اثر ڈالا ہے۔ ہم نے اجتماعی طور پر کھانا پکانا، کھانا پکانے کا میراتھن اور جانوروں کو کھلانے پلانے کی بیداری مہم کی پہل بھی کی۔



مالویکا ائیر 13 سال کی عمر میں ایک بم دھماکے کا شکار بنیں جس میں ان کے ہاتھ اڑ گئے اور بری طرح ٹوٹ گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ’ چھوڑ دینا کبھی کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ اپنے حدود کو بھول کر اعتماد اور امید کے ساتھ دنیا کا سامنا کیجئے‘۔

ائیر ترغیب دینے والی ایک مقرر، دیویانگ کارکن اور ماڈل ہیں۔



نریندر مودی کے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرنے والی ایک خاتون کشمیر کی عارفہ بھی ہیں۔ اپنی کہانی کو شیئر کرتے ہوئے عارفہ نے بتایا کہ کیسے انہوں نے کسی زمانے میں جموں و کشمیر کی شان رہی دستکاری کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ عارفہ نے بتایا کہ کیسے انہوں نے خواتین کو روزگار تلاش کرنے کی بجائے انٹرپرنیورشپ کی جانب قدم بڑھانے کیلئے کہا۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ کے دورہ کیلئے انہیں کاریگروں کے گھروں میں لے جایا جاتا تھا ۔ اس دوران انہیں پتہ چلا کہ آج کے وقت میں کاریگروں کی ایسی حالت کیوں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کاریگروں کو ان کی محنت کی مناسب اجرت نہیں ملتی ہے ، جس کی وجہ سے دستکاری کا فن ختم ہوتا جارہا ہے۔



پانی کی محافظ کلپنا رمیش نے کہا’ محافظ بنئے لیکن تھوڑے الگ طرح کا۔ پانی کا محافظ بنئے‘۔ انہوں نے کہا ’ چھوٹی کوشش بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ جھیلوں کو بچا کر پانی کا تحفظ کریں‘۔



دیہی مہاراشٹر کی بنجارا کمیونٹی کی دستکاری کو فروغ دینے والی وجیا پوار نے لکھا ’ میں گزشتہ دو دہائی سے اس پر کام کر رہی ہوں اور اس میں ہزاروں دیگر خواتین تعاون کرتی ہیں‘۔



اترپردیش کے کانپور کی کلاوتی دیوی بیت الخلا کی تعمیر کے لئے پیسے جٹاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پیچھے مت دیکھئے اور لوگوں کی کڑوی باتوں کو نظرانداز کیجئے۔

انہوں نے کہا ’ میں جس جگہ رہتی تھی وہاں ہر طرف گندگی تھی۔ لیکن ایک پختہ یقین تھا کہ سوچھتا کے ذریعہ ہم صورت حال کو بدل سکتے ہیں۔ میں نے لوگوں کو اس کے لئے تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیت الخلا کی تعمیر کے لئے پیسے اکھٹا کئے۔

بہار کے مونگیر کی رہنے والی وینا دیوی کہتی ہیں ’ جہاں چاہ، وہاں راہ ہے۔ انہوں نے مشروم کی کھیتی کے منصوبے کے لئے جگہ کی کمی کو اپنے آڑے نہیں آنے دیا اور اپنے پلنگ کے نیچے مشروم اگایا۔



انہوں نے کہا ’ قوت ارادی سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مجھے اصل پہچان پلنگ کے نیچے ایک کلو مشروم اگا کر ملی۔ اس نے مجھے نہ صرف خودکفیل بنایا بلکہ میرا بھروسہ بڑھا کر مجھے نئی زندگی دی۔
First published: Mar 09, 2020 01:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading