உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مشہور شاعر گوپال داس نے کی مودی حکومت کی حمایت ، کہا : ادیب سیاست کررہے ہیں

    آگرہ : ملک بھر میں ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ واپس کئے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مرکزی سرکار کو اس وقت تھوڑی راحت ملی جب مشہور شاعر گوپال داس نیرج نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی

    آگرہ : ملک بھر میں ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ واپس کئے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مرکزی سرکار کو اس وقت تھوڑی راحت ملی جب مشہور شاعر گوپال داس نیرج نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی

    آگرہ : ملک بھر میں ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ واپس کئے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مرکزی سرکار کو اس وقت تھوڑی راحت ملی جب مشہور شاعر گوپال داس نیرج نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      آگرہ : ملک بھر میں ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ واپس کئے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مرکزی سرکار کو اس وقت تھوڑی راحت ملی جب مشہور شاعر گوپال داس نیرج نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ واپس کرنے والے ادیب جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ سب مودی کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔


      گوپال داس نیرج نے آگرہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ادیب مودی کے خلاف سیاست کر رہے ہیں۔ ان ادیبوں کو کانگریس کے اقتدار میں ایوارڈ ملا تھا اور اب وہی ان سے یہ ایوارڈ لوٹانے کا کام کروا رہی ہے۔ اس سے کانگریس کی ہی بدنامی ہو رہی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ ایوارڈ واپس کرنے والوں میں سے کچھ نے ہی رقم لوٹائي ہے۔ دیگر لوگ کیوں نہیں لوٹا دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے لوگوں نے آخر پنشن بھی کیوں نہیں لوٹائي۔ گوپال داس نیرج نے کہا کہ ایوارڈ واپس کرنے والے ادیب جھوٹ بول رہے ہیں۔ ادیبوں کو چاہئے کہ اگر انہیں کسی چیز کی مخالفت کرنی ہے تو گیت لکھیں اور کہانی لکھیں۔


      انہوں نے مزید کہا کہ گوشت پر تنازعہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہندوستانی ثقافت میں گائے کو ماں مانا گیا ہے۔ کرشن گائے چراتے تھے۔ ماں کے دودھ کے علاوہ گائے ہی ہے جس کا دودھ بچے سے بڑوں تک سب کیلئے مفید ہے۔ نیرج نے کہا کہ گائے کو قومی جانور اعلان کر دیا جانا چاہئے ۔ سارے تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔


      انہوں نے اتر پردیش حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے ادیبوں کے لئے جتناکام کیا ہے اتنا کسی نے نہیں کیا۔ اب پنشن بھی دے دیا ہے۔

      First published: