ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مشاعرے نہ ہونے سے تنگ دستی و بدحالی کا شکار ہیں شعراء و شاعرات

مشاعرے نہ ہونے کے سبب شعراء و شاعرات کی بڑی تعداد بدحالی و تنگ دستی کا شکار ہے اور اب یہ پریشان لوگ اردو اکادمیوں اور دیگر ادبی اداروں کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔

  • Share this:
مشاعرے نہ ہونے سے تنگ دستی و بدحالی کا شکار ہیں شعراء و شاعرات
مشاعرے نہ ہونے سے تنگ دستی و بدحالی کا شکار ہیں شعراء و شاعرات

لکھنئو۔ کورونا وبا کے قہر نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں فنونِ لطیفہ بالخصوص مشاعرے کی دنیا پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔مشاعرے نہ ہونے کے سبب شعراء و شاعرات کی بڑی تعداد بدحالی و تنگ دستی کا شکار ہے اور اب یہ پریشان لوگ اردو اکادمیوں اور دیگر ادبی اداروں کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں مشاعرے کو ایک ادبی ادارے کی حیثیت حاصل رہی ہے۔


معروف شاعر و دانشور ملک زادہ جاوید کہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اس ادبی ادارے کی مقصدیت تبدیل ہوئی تو مشاعرے کے ذریعے تہذیبی و لسانی تربیت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معاشی مسائل بھی حل ہونے لگے اور پھر یہ تہذیبی ادارہ ایک ایسی ادبی انڈسٹری میں تبدیل ہو گیا جس نے سیکڑوں  شاعروں کو خوشحال زندگی اور زندگی کا اعلیٰ معیار عطا کیا اور ہزاروں  شعراء و شاعرات کے معاشی مسائل حل کرنے شروع کئے اور پھر انہوں نے شعرو شاعری کو ہی ذریعہ ء معاش بنا لیا۔ وہ شعراء و شاعرات جن کے گھروں کے چولہے مشاعروں میں پڑھے جانے والی غزلوں اور گیتوں سے روشن ہوتے تھے فی الحال تنگ دستی و بدحالی کی گرفت میں ہیں۔


کورونا وبا کے قہر نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں فنونِ لطیفہ بالخصوص مشاعرے کی دنیا پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔


نئی نسل کے نمائندہ شاعر تشنہ اعظمی ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ اردو زبان اور اہل زبان کی فلاح کے لئے جو ادبی ولسانی ادارے اور اکادمیاں قائم کی گئی تھیں انہیں ان حالات میں غریب قلمکاروں اور شاعروں کی مالی امداد کے لئے کوئی پیش رفت کرنا چاہئے۔ معروف شاعر سہیل کاکوروی بھی یہی مانتے ہیں کہ اس خراب وقت میں زبان و ادب کی پرورش کرنے والے لوگوں کی بقاء اور تحفظ کی ذمہ داری سرکاری اداروں  اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کو لینی چاہیے لیکن ملک زادہ جاوید کے مطابق  اردو اداروں کے ساتھ ان بڑے شاعروں اور قلمکاروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے جنہوں نے اردو زبان و ادب کی خدمت کے نام پر مشاعرے کو ادبی منڈی میں تبدیل کرکے اپنی تجوریاں بھری ہیں اور کئی پشتوں کی شکم سیری  کے بندو بست  اور تعیش کے سامان مہیا کر لئے ہیں۔

اس ضمن میں اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے سیکرٹری سے بات کی تو انہوں نے امداد مصنفین کی مد میں اضافہ کرنے کی بات کرتے ہوئے مثبت پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔ کچھ شاعروں نے اس ضمن میں مختلف ریاستوں کی اکادمیوں سے رابطے قائم کرکے بھی مطالبات پیش کئے ہیں لیکن محض لفظی جمع خرچ سے غریب شعراء و شاعرات کے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ اس ضمن میں سنجیدہ پیش رفت اور عملی اقدامات  کیے جانے کی ضرورت ہے۔
First published: Jun 24, 2020 03:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading