ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ میں پولیس کاروائی کا معاملہ: ہائی کورٹ نے مرکز، دہلی پولیس اور دہلی سرکار کو جاری کیا نوٹس

مجیب نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ لائبریری میں بیٹھا ہوا تھا جب یہ پرتشدد واقعہ ہوا۔ اس میں اس کے دونوں پیر ٹوٹ گئے۔

  • Share this:
جامعہ میں پولیس کاروائی کا معاملہ: ہائی کورٹ نے مرکز، دہلی پولیس اور دہلی سرکار کو جاری کیا نوٹس
جامعہ کے طلبہ پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ تشدد کا معاملہ اب دہلی ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ شایان مجیب نامی طالب علم نے عرضی دائر کر دو کروڑ روپئے کا معاوضہ مانگا ہے۔ مجیب نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ لائبریری میں بیٹھا ہوا تھا جب یہ پرتشدد واقعہ ہوا۔ اس میں اس کے دونوں پیر ٹوٹ گئے۔ طالب علم مجیب نے اپنی عرضی میں بتایا کہ ابھی تک وہ علاج پر ڈھائی لاکھ روپئے خرچ کر چکا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس پر مرکز، دلی پولیس اور دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔


بتا دیں کہ 15 دسمبر کو جامعہ میں تشدد ہوا تھا۔ پولیس نے لائبریری میں گھس کر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے 15 دسمبر کو یونیورسیٹی احاطہ کے اندر پولیس تشدد کی جانچ شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔




سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ کے باہر احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : پی ٹی آئی: فائل فوٹو
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ کے باہر احتجاج کا ایک منظر ۔ تصویر : پی ٹی آئی: فائل فوٹو

شہریت ترمیمی قانون پاس ہونے کے فورا بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے اس کی مخالفت میں احتجاج کیا۔ مخالفت میں نکالا گیا مارچ جلد ہی پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد دلی پولیس نے طلبہ پر جم کر لاٹھی چلائی۔ اس وقت پولیس پر الزام لگا کہ اس نے لائبریری میں بیٹھے طلبہ کے ساتھ بربریت کی۔ لائبریری میں گھس کر اس نے توڑ پھوڑ کی اور طلبہ کی جم کر پٹائی کی۔

First published: Feb 17, 2020 02:05 PM IST