உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد میں خاتون مسلم یو ٹیوبر کو پولیس نے کیا گرفتار

    الہ آباد میں خاتون مسلم یو ٹیوبر کو پولیس نے کیا گرفتار

    الہ آباد میں خاتون مسلم یو ٹیوبر کو پولیس نے کیا گرفتار

    پولیس کے مطابق شہر کی ثناء ہیر خان نے اپنے پوسٹ کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ مقامی پولیس نے ثناء ہیر کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔

    • Share this:
    الہ آباد۔ ہندو دیوی دیوتاؤں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ  کرنے والی ایک مسلم یوٹیوبر کو الہ آباد پولیس نے گرفتارکر لیا ہے۔ خاتون یو ٹیوبر پر الزام ہے کہ اس نے یو ٹیوب پر ایسا ویڈیو اپلوڈ کیا تھا جس میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کئے گئے تھے۔ پولیس نے ویڈیو اپلوڈ  ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق شہر کی ثناء ہیر خان نے اپنے پوسٹ کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ مقامی پولیس نے ثناء ہیر کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے ۔ پولیس نے ثناء کا موبائل اور لیپ ٹاپ  بھی اپنے قبضے لے لیا ہے اور اس معاملے میں مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔ الہ آباد کی ثنا ء خان کافی عرصے سے سوشل میڈیا پر سرگرم بتائی جا رہی ہے ۔ اس نے ایک یو ٹیوب چینل بھی  بنا رکھا ہے۔ اس  کے یو ٹیوب چینل کو اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔

    الہ آباد کے ایس ایس پی ابھیشیک دیکشت کے مطابق گرفتار ہونے والی خاتون کا تعلق شہر کے نوراللہ روڈ سے ہے۔ پولیس ثناء ہیر خان کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کا تعلق کسی ملک مخالف تنظیم یا ادارے سے تو نہیں ہے ؟ پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ثناء خان نے  یو ٹیوب پر ’’ بلیک ڈے ۵؍ اگست ‘‘ کے عنوان سے  ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کیا تھا ۔ اس ویڈیو میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں اشتعال انگیز باتیں کہی گئی تھیں۔ پولیس کا مزید کا کہنا ہے کہ اس کو ثناء ہیر خان کی طرف سے چلائے جا رہے ایک یو ٹیوب چینل کا بھی پتہ چلا ہے جس کو اب تک پانچ لاکھ دس ہزار  سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔ ایس ایس پی ابھیشیک دیکشت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو کافی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مزید تفتیش کے لئے سائبر کرائم برانچ سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: