ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرتھل میں اجتماعی آبروریزی جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا : پولیس

چنڈی گڑھ: ہریانہ پولیس نے آج اس بات سے انکار کیا کہ سونی پت کے مرتھل میں قومی شاہراہ نمبر ایک پر جاٹ تحریک کے دوران 22، 23 فروری کی رات خواتین کے ساتھ اجتماعی آبروریزی جیسی کوئی واردات ہوئی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 01, 2016 12:26 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرتھل میں اجتماعی آبروریزی جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا : پولیس
چنڈی گڑھ: ہریانہ پولیس نے آج اس بات سے انکار کیا کہ سونی پت کے مرتھل میں قومی شاہراہ نمبر ایک پر جاٹ تحریک کے دوران 22، 23 فروری کی رات خواتین کے ساتھ اجتماعی آبروریزی جیسی کوئی واردات ہوئی تھی۔

چنڈی گڑھ:  ہریانہ پولیس نے آج اس بات سے انکار کیا کہ سونی پت کے مرتھل میں قومی شاہراہ نمبر ایک پر جاٹ تحریک کے دوران 22، 23 فروری  کی رات خواتین کے ساتھ اجتماعی آبروریزی جیسی کوئی واردات ہوئی تھی۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جسٹس ا یس کے متل اور ایچ ایس سدھو کی بینچ کے سامنے پولیس کی طرف سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں ایسے کسی طرح کے واقعہ نہ  ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ عدالت نے اب اس معاملے میں اگلی سماعت کے لئے 14 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس سلسلے میں عدالت کی مدد کے لئے وکیل انوپم گپتا  کو اميكس کیوری مقرر کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایک خاتون نے گذشتہ اتوار کو سات لوگوں پر اس کے ساتھ گذشتہ 22 فروری کو اجتماعی آبروریزی کا الزام لگایا تھا اور اس واردات میں اس نے اپنے  دیور کے شامل ہونے کی بھی بات کہی تھی۔  خاتون کے ان الزامات پر ریاستی حکومت کی طرف سے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل راج شری سنگھ کی قیادت میں قائم انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے اس واردات کے پیچھے خاندانی  تنازعہ ہو سکتا ہے۔ یہ خاتون اگرچہ اس جگہ کا صحیح ذکر نہیں کر پائی جہاں اس کے ساتھ آبروریزی کی واردات ہوئی تھی۔ صرف یہ بتایا ہے کہ یہ مرتھل کے قریب کسی  عمارت کے پاس ہوئی تھی۔

قابل ذکر ہے مرتھل میں ہوئے مبینہ واقعہ کے سلسلے میں ایک اخبار میں شائع خبروں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس واقعہ پر اسٹیٹس  رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔

First published: Mar 01, 2016 12:26 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading