உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامعہ ملیہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل، مسجد کے امام نے پولیس سے کی اپیل، حراست میں لئے گئے مظاہرین

    جامعہ ملیہ اسلامیہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل۔ تصویر: اے این آئی

    جامعہ ملیہ اسلامیہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل۔ تصویر: اے این آئی

    شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی میں احتجاجی مظاہرہ نے اشتعال کی صورتحال اختیارکرلی۔ اس دوران پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ جبکہ مظاہرین کی جانب سے کئی گاڑیوں کوآگ لگا دی گئی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں احتجاج اور پولیس سے جھڑپ کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کوپولیس  نے چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہےکہ پولیس  نے اس دوران مظاہرین کی گرفتاریاں بھی کی ہیں اورانہیں پولیس بس سے لے جایا گیا ہے۔  طلباء کا الزام ہےکہ پولیس نے جامعہ کےاندرگھس کرطلبا وطالبات کی پٹائی کی ہے۔ اس طرح کے ویڈیو بھی وائرل ہورہے ہیں۔

      یہ بھی بتایا جا رہا ہےکہ پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں آنسو گیس کے گولے بھی داغ دیئے، جس کے بعد مسجد کے امام صاحب نے لاؤڈ اسپیکرکے ذریعہ پولیس سے بڑی اپیل کرتے ہوئےکہا کہ برائے مہربانی آنسوگیس کےگولے نہ داغیں کیونکہ آس پاس میں چھوٹے چھوٹے بچے اور عورتیں بھی ہیں۔  اس دوران پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔



      اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے ساتھ جامعہ نگرکے مقامی لوگوں نے بھی اس احتجاج میں شرکت کرکےشہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں آج جامعہ نگرکےلوگوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیونکہ آج اوکھلا بند کا اعلان کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس احتجاج نے اشتعال کی صورتحال اختیارکرلی اور تین بسوں  میں آگ لگا دی گئی۔ بتایا جاتا ہےکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اورمقامی لوگوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس احتجاج کیا۔ وہیں مقامی لوگوں نے متھرا روڈ کوجام کردیا، جبکہ مظاہرین نے سریتا وہار انڈرپاس، کالندی کنج روڈ بھی جام کیا، جس سے ٹریفک نظام بری طرح سے متاثرہوا۔



      مظاہرین نے بس کو آگ لگا دی۔


      اس دوران پولیس نے مظاہرین کوہٹانےکےلئےآنسوگیس کےگولے کا استعمال کیا  اوراحتیاط کے طورپرآس پاس کی سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔ اس احتجاج میں اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے ساتھ دیگرمقامی لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ طلباء اورمقامی لوگوں کا احتجاجی مارچ آس پاس کےعلاقوں سےہوکرگزرا۔ احتجاجی مظاہرہ میں ذاکرنگر، بٹلہ ہاؤس، شاہین باغ وغیرہ کے لوگوں نےاپنی دوکانیں بند کرکے شرکت کی۔ اس پورے علاقے میں زبردست پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔

      شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ نگر میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران بسوں میں آگ لگا دی گئی۔


      واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے جمعہ کوبھی احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، اس وقت بھی پولیس اورطلباء میں جھڑپ ہوئی تھی۔ اس میں بڑی تعداد میں طلباء زخمی ہوئے تھے۔ آج احتجاج کا تیسرا دن ہے، جس میں مقامی لوگوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ قابل ذکرہےکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تمام امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں اورجامعہ انتظامیہ کی طرف سے 16 دسمبرسے 5 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے۔
      First published: