உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش میں سیاسی اور زبانی جنگ،عوامی مسائل درکنار

    سماج وادی  پارٹی بی جے پی،بی ایس پی ، اور کانگریس کی سیاسی جنگ میں اپنا دل ,مسلم لیگ، آل انڈیا اتحا د المسلمین ،  پیس پارٹی اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں  اور  چھوٹے دَل کیا کوئی اہم رول اداکر پائیں گے یہ ایک اہم سوال ہے ۔

    سماج وادی پارٹی بی جے پی،بی ایس پی ، اور کانگریس کی سیاسی جنگ میں اپنا دل ,مسلم لیگ، آل انڈیا اتحا د المسلمین ، پیس پارٹی اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں اور چھوٹے دَل کیا کوئی اہم رول اداکر پائیں گے یہ ایک اہم سوال ہے ۔

    سماج وادی پارٹی بی جے پی،بی ایس پی ، اور کانگریس کی سیاسی جنگ میں اپنا دل ,مسلم لیگ، آل انڈیا اتحا د المسلمین ، پیس پارٹی اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں اور چھوٹے دَل کیا کوئی اہم رول اداکر پائیں گے یہ ایک اہم سوال ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو ۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران اتر پردیش میں بر سر اقتدار بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے مابین جو زبانی جنگ چھڑی ہوئ ہے اس کا پس منظر سمجھنا سیاست میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے مشکل نہیں ، اعظم گڑھ کے حالیہ دورے کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ  امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جس انداز سے اتر پردیش کی سابقہ حکومت پر تنقید کی اور اعظم گڑھ کی سابقہ اور حالیہ شناخت کے بارے میں جو بیانات جاری کئے وہ خاصے اہم اور قابل غور ہیں، ان بیانات کے بعد اکھلیش کا رد عمل بھی سامنے آیا اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی بالخصوص اتر پردیش سرکار کے پاس ایسا کوئی کام نہیں جس کو لے کر عوام کے درمیان جا سکے اس لئے سماج وادی سرکار کے ذریعے کرائے گئے کاموں کا افتتاح کرکے اپنی شبہیہ سدھارنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔دوسری طرف کانگریس کے پرتگیا سمیلنوں میں بھی عوام سے جڑے حساس موضوعات خاص طور  پر اترپردیش میں بڑھتے جرائم، بے روزگاری ،مہنگائی،اور آئین و قانون کی ابتر صورت حال کو لے کر مسلسل تبصرے کئے جارہے ہیں ۔

    سماج وادی  پارٹی بی جے پی،بی ایس پی ، اور کانگریس کی سیاسی جنگ میں اپنا دل ,مسلم لیگ، آل انڈیا اتحا د المسلمین ،  پیس پارٹی اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں  اور  چھوٹے دَل کیا کوئی اہم رول اداکر پائیں گے یہ ایک اہم سوال ہے ۔ سوال اس لئے اہم اور دلچسپ ہے کہ اس سوال کے جواب میں سبھی جماعتیں خود کو صرف اہم ہی ہیں بلکہ یا تو اقتدار کی دعویدار مانتی ہیں یا پھر یہ اظہار کرتی ہیں کہ ان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی پارٹی اتر پردیش میں حکومت نہیں بنا پائے گی۔انڈین مسلم لیگ کے صدر ،  ممبر آف پارلیمنٹ ٹی بشیر نے اپنے لکھنئو قیام کے دوران کئی اہم سیاسی ،سماجی اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کی ، اتر پردیش کے بدلتے سیاسی حالات کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی کچھ نئے اور با اثر لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل بھی کیا ۔لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ اس بار انڈین مسلم لیگ اتر پردیش میں پوری تیاریوں کے ساتھ اترے گی اور لوگوں کو احساس کرائے گی کہ ہم صرف کیرالہ میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی مستحکم ہورہے ہیں  ڈاکٹر متین کے خیالات اپنی جگہ ،لیکن بظاہر  اتر پردیش میں مسلم لیگ کی کوئی خاص ساخت اور شناخت نہیں  اور ڈاکٹر متین کے مذکورہ دعوے بھی ایک خواب کی طرح ہی معلوم ہوتے ہیں ایک ایسا خواب جس کی تعبیر فی الوقت  مایوسی ہی ہے ۔  معروف سیاسی مبصر ، سماجی و ملی رہنما سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ،پیس پارٹی ، مجلس اتحاد المسلمین اور اسی طرح کی دوسری  چھوٹی جماعتیں صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے سیاسی میدان میں اتر رہی ہیں باقی ان جماعتوں سے اتر پردیش کے الیکشن پر زیادہ اثر نہیں  پڑے گا لیکن اویسی کی بڑھتی مقبولیت اور ان کے لئے بی جے پی کی معتدل حکمت عملی یہ اشارے ضرور دے رہی ہے کہ وہ اقلیتی ووٹ بنک کی تقسیم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھلے ہی اپنی  کوئی سیٹ جیتے نہ جیتے لیکن وہ کئی سیٹیں ہروا ضرور سکتی ہے لہٰذا اگر اکھلیش اویسی  اور شیو پال یادو کے مابین مفاہمت کی گنجائش نہ نکل سکی تو ووٹ بنک کی تقسیم سے  سب سے زیادہ خسارہ سماج وادی ہارٹی کو ہوسکتا ہے اپنے عمیق تجزیے کی بنیاد پر بلال نورانی نے یہ بھی کہا کہ فی الوقت اتر پردیش کے دیہات و مضافات اور قصبات میں بر سر اقتدار جماعت سے ناراضگی دیکھی جارہی ہے مہنگائی  بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل نے لوگوں کو مایوس کردیا ہے اور وہ اکھلیش یادو کو امید افزا نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں بحیثیت سیاسی مبصر بلال نورانی کا یہ بھی ماننا ہے کہ اویسی کی جماعت کے اتر پردیش میں الیکشن لڑنے سے بھلے ہی انجمن کو فائدہ ہو نہ ہو لیکن بی جے پی کو فائدہ ضرور پہنچے گا۔

    سیاسی مبصرین اور صحافیوں کے اپنے اپنے تبصرے قیاس اور مشاہدے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس بات کا اندازہ اکھلیش یادو کو بھی بخوبی ہوچکا ہے کہ اس بار کسی بھی محاذ اور موقع پر چوک ہوئی تو اقتدار میں واپسی کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا  اس لئے وہ بھی بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ سماج وادی پارٹی کے دروازے چھوٹے چھوٹے سبھی دلوں ، تنظیموں اور جماعتوں کے لئے کھلے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ چچا بھتیجے یعنی اکھلیش اور شیو پال کے حالیہ بیانات سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ اب یادو پریوار کی سمجھ میں آ چکا ہے کہ اس بار بھی اگر انا اور ذاتی مفاد کو پس پشت نہیں کیا گیا تو سیاست کی جنگ میں شکست تقدیر بن جائے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: