ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھوپال انکاونٹر : کانگریس سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں اور مختلف سماجی و ملی تنظیموں نے جانچ کا مطالبہ کیا ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟

کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے بھوپال جیل سے مبینہ طور پر مفرور سیمی کے آٹھ ملزمان کو تصادم میں مارے کے واقعہ پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان جماعتوں کو ایسے معاملے میں سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 02, 2016 12:14 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھوپال انکاونٹر : کانگریس سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں اور مختلف سماجی و ملی تنظیموں نے جانچ کا مطالبہ کیا ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟
کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے بھوپال جیل سے مبینہ طور پر مفرور سیمی کے آٹھ ملزمان کو تصادم میں مارے کے واقعہ پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان جماعتوں کو ایسے معاملے میں سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

نئی دہلی :  کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے بھوپال جیل سے مبینہ طور پر مفرور سیمی کے آٹھ ملزمان کو تصادم میں مارے کے واقعہ پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان جماعتوں کو ایسے معاملے میں سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔    لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے، پارٹی جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی نے اس واقعہ کو فرضی تصادم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کی جانچ کرانے کی ہدایت دینی چاہئے۔ نرمدا بچاؤ تحریک کی لیڈر میدھا پاٹکر نے بھی اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


کانگریس کے سینئر لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ ایک ہی جگہ پر سیمی کے آٹھ ملزمان کے مارے جانے کے واقعہ مشکوک ہے۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کو ایک ریٹائرڈ جج مقرر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’ میں نے بھی ٹیلی ویژن پر کچھ تصویر یں دیکھی ہیں۔ ان سے یہ واقعہ مشتبہ لگتا ہے۔ یہ ماننا مشکل ہے کہ ایک ہی جگہ پر پولیس کی کارروائی میں ایک ساتھ آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہوں۔ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے اور سپریم کورٹ کو اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ریٹائرڈ جج کی تقرری کرنی چاہئے۔ سارے شک ختم ہو جائیں گے‘‘۔


محترمہ مایاوتی نے بھی اس واقعہ کی عدالتی انکوائری کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سیمی کے آٹھ قیدیوں کے جیل سے فرار ہونے اور پھر تصادم میں ان سب کے مارے جانے کے واقعہ کی عدالتی جانچ ہونی چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش پولیس کے حوالے سے آنے والے خبر کے مطابق سیمی سے جڑے آٹھوں فرار قیدی غیر مسلح تھے اور انہیں آسانی سے دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا کرنے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔ اس طرح پہلی نظر میں یہ معاملہ مشتبہ لگتا ہے۔ لہذا اس واقعہ کی عدالتی جانچ ہونی چاہیے۔


مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو نے یہاں جاری بیان میں کہا کہ مختلف معاملات میں سیمی کے ملزمان کی ابھی تحقیقات جاری رہی تھی۔ اس لیے ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا سیمی سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں. ایسے میں ان لوگوں کے تصادم میں مارے جانے کے واقعہ پر کئی سوال اٹھتے ہیں اور شک بھی پیدا ہوتا ہے۔  پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ مدھیہ پردیش پولیس نے دعوی کیا ہے کہ ان ملزمان نے پہلے پولیس پر حملہ کیا تھا اور ان کے پاس ہتھیار بھی تھے لیکن ویڈیو کلپس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک قیدی کو اس وقت گولی ماری جب وہ زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ ایک انداز میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیمی کے رکن ہونے کے ملزم پولیس کو ہاتھ ہلا رہے ہیں جس سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لئے ایسا کر رہے تھے۔ پارٹی کے ان حقائق کو دیکھتے ہوئے موجودہ جج سے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے قومی جانچ ایجنسی سے اس کی جانچ کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ نہ تو قابل اعتماد ہے اور نہ قابل قبول ہے۔

ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھوپال کے قیدیوں کے مارے جانے کا واقعہ کئی طرح کے سوال اٹھاتا ہے۔ آخر جب جیل میں اتنی سیکورٹی اور نگرانی تھی، کس طرح یہ زیر سماعت قیدی وہاں سے بھاگ نکلے۔ ان قیدیوں کے پاس آخر ہتھیار كها سے آئے اور یہ تصادم کیسے ہوا کیونکہ اس واقعہ کو لے کر اب کئی ویڈیو سامنے آ گئے ہیں اور ان سے حکومت کے بیانات کے تضاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔  پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں لگی ہیں اور عوام کو ان کی اس ناپاک سازش کو سمجھ لینا چاہئے۔ پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ قوم پرستی اور حب الوطنی کے نام پر بی جے پی آر ایس ایس فرقہ وارانہ بنیاد پر لوگوں کا پولرائزیشن کر رہی ہے۔

نرمدا بچاؤ تحریک کی لیڈر میدھا پاٹکر کی قیادت والے جنوری تحریکوں کی قومی رابطہ کمیٹی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مختلف ذرائع سے عوامی طور پر جاری کئے گئے ویڈیوز فوٹیج سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جیل سے فرار قیدیوں کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں تھا جس سے وہ دور سے حملہ کر سکتے۔ یہی بات اے ٹی ایس کے آئی جی نے کہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نے بھی کہا ہے کہ ان کے پاس نوک دار چمچوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ آٹھوں قیدی جیل کے الگ الگ بیرک میں بند تھے۔ اسی لئے ان تمام قیدیوں کو ایک ساتھ فرار ہونا مشکوک ہے۔ انہوں نے جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج اور تصادم کے ویڈیو فوٹیج کو عام کرنے اور اس واقعہ کی عدالتی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے بھوپال جیل سے فرار ہونے کے الزام میں آٹھ مشتبہ سیمی ارکان کے انکاؤنٹر پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ جن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور اس کی جو ویڈیو میڈیا میںآئی ہے‘ اس نے بہت سے سوال کو جنم دے دیا ہے اس لئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس پورے واقعہ کی جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت لوگوں کے سامنے آسکے۔

مولانا نے کہا کہ اگر وہ مجرم تھے تو عدالت کے فیصلہ کے مطابق انہیں ضرور سزا ملنی چاہئے تھی اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ گناہگاروں کو سزا ملے لیکن فرضی انکاؤنٹر کرنے والے افسران کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے کیونکہ کسی کا ناحق قتل انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے ۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ملک کے دانشوارن،رہنما اور ماہرین اس انکاؤنٹر پر اپنے شبہ کا اظہار کر رہے ہیں کیوں کہ پہلی نظر میں ہی یہ انکاؤنٹر فرضی لگتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جیل سے لاکر اس سنسان جگہ پر چھوڑ دیا گیا ہو اس کے بعد ان پر گولیاں چلائی گئی ۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھوپال سنٹرل جیل سے مبینہ طور پر بھاگنے والے آٹھ قیدیوں کے پولیس تصادم میں مارے جانے کے واقعہ پر کانگریس کی طرف سے سوال اٹھائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والے ہر تصادم پر سوال اٹھا کر ووٹ بینک کی سیاست کرتی رہی ہے۔  بی جے پی کے ترجمان سری کانت شرما نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا ’اٹلی کانگریس‘ کے کچھ لیڈر دہشت گردوں کے تصادم میں مارے جانے پر ماتم کناں ہیں۔ ’’انہوں نے سوال کیا کہ سیمی اور لشکر طیبہ کے تئیں کانگریس کی ہمدردی کیوں ہے اور وہ دہشت گردی کی سیاست کیوں کرتی ہے‘‘۔

مسٹر شرما نے کہا کہ کانگریس بٹلہ ہاؤس تصادم، ممبئی دہشت گردانہ حملے، پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور افضل گرو معاملات پر بھی سوال اٹھا چکی ہے۔ اس طرح کے تصادموں پر سوال اٹھائے جانے سے سکیورٹی اہلکاروں کا حوصلہ پست ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) بھوپال تصادم کی تفتیش کے لئے گئی ہے لیکن بی جے پی کا خیال ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ تصادم کے واقعات کی تحقیقات نہیں کرائی جانی چاہئے۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر وینکیا نائیڈو نے کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھوپال جیل سے فرار آٹھ سیمی قیدیوں کے تصادم میں مارے جانے کے واقعہ پر سیاست نہ کریں۔ مسٹر نائیڈو نے گوا میں ہندستانی بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں آج یہاں منعقد پریس کانفرنس سے الگ کہا کہ ملک کی سلامتی سے جڑے معاملات پر سیاست نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جب 23 ماؤنواز ہلاک ہو گئے تھے تب کسی بھی سیاسی پارٹی نے کوئی سوال نہیں اٹھایا تھا لیکن جیل سے بھاگے سیمی قیدیوں کے تصادم میں مارے جانے کے واقعہ کو طول دیا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ سمجھا جانا چاہئے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ اگر دہشت گردوں کو مارے جانے کے واقعات پر سیاست کی جائے گی تو اس سے ان بیرونی قوتوں کو تقویت ملے گی، جو ملک کے اتحاد اور سالمیت کو ختم دیکھنا چاہتی ہیں

سابق اقلیتی امور کے وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر ونائب صدر عارف نسیم خان نے انکاونٹر کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کولڈ بلڈیڈ مرڈر قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہئے۔  انہوں نے اس پورے معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکاؤنٹر کے نام پر یہ مسلم نوجوانوں کا صریح قتل ہے جس پر مدھیہ پردیش حکومت جیل سے فرار ہونے کا پردہ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس انکاؤنٹر کی جو ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں اور آرہی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور ایس ٹی ایف نے قصداً ان کا قتل کیا ہے جبکہ وہ سرینڈر کرنا چاہتے تھے۔ انہیں زندہ بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا مدھیہ پردیش حکومت اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ جیل سے فرار ہوئے تھے جبکہ اگر جیل کی نوعیت پر غور کیا جائے تو یہ حکومت وپولیس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے، کیونکہ بھوپال سینٹرل جیل ملک کی انتہائی محفوظ ترین جیلوں میں سے ایک ہے۔

صدر جمیعتہ علمأ تلنگانہ و آندھرا پردیش مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے بھو پال انکاؤنٹر معاملہ پر اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں پر مظالم کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو ظلم و ستم، مارپیٹ حتیٰ کہ قتل جیسے اقدامات کرنے کی گؤ رکھشکوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ وہیں دوسری طرف مختلف جھوٹے معاملات میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کو ایک ایسے وقت انکاؤنٹر کیا جارہا ہے جبکہ ان کے معاملات کی سماعت آخری لمحات میں تھی اور ان کے بری ہونے کے بھر پور امکانات تھے، کیونکہ استغاثہ کے پاس ان ملزمین کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔

سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے اور ممبئی ومہاراشٹر کے پارٹی صدرابوعاصم اعظمی نے آج بھوپال انکاونٹر پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس فرضی مڈبھیڑ میں مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے معاملے کی شفاف جانچ کے ساتھ ساتھ عدالت بذات خود اس معاملہ کا نوٹس لے کر تفصیلات طلب کرے۔  انہوں نے مزید کہاکہ بھوپال میں سیمی کے ارکان کے نام پر مسلم نوجوانوں کی فرضی مڈبھیڑ نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ جن نوجوانوں کو جیل کے انتہائی سیکورٹی والے کمرے میں رکھا گیا تھا وہ کس طرح جیل حکام کو قتل کر کے فرار ہوگئے۔ ان کے پاس مہنگے جوتے ، کپڑے اور دیگر ساز وسامان کہاں سے آئے کیا جیل میں وہ عیش و عشرت سے رہتے تھے جو ویڈیو فوٹیج سامنے آیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نوجوان خودسپردگی کر نا چاہتے تھے اور انہیں زندہ گرفتار بھی کیا جاسکتا تھا، لیکن پولیس اور اے ٹی ایس نے اپنی بہادری کا مظاہرہ کر تے ہوئے ان پرگولیاں داغ کر انکاؤنٹر کر دیا اس پورے انکاؤنٹر کی عدالتی انکوائری ہونے کے ساتھ اس معاملے میں ملوث افسران پر سخت کارروائی کر نے کے علاوہ ان پر قتل کا بھی مقدمہ درج کیا جائے ۔
First published: Nov 02, 2016 12:14 AM IST