ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سیاسی لیڈران نے پاک مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائی کا کیا خیر مقدم، فوج کو دی مبارکباد

نئی دہلی۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی محدود کارروائی کا ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے اور اس کے لئے بہادر فوجیوں کو مبارکباد دی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 29, 2016 06:15 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سیاسی لیڈران نے پاک مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائی کا کیا خیر مقدم، فوج کو دی مبارکباد
فائل فوٹو: گیٹی امیجیز

نئی دہلی۔  پاک مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی محدود کارروائی کا ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے اور اس کے لئے بہادر فوجیوں کو مبارکباد دی ہے۔  وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب محدود فوجی کارروائی کیلئے ہندستانی فوج کو مبارک باد دی ہے۔ فوج نے کل رات سرحد پار محدود فوجی کارروائی میں دہشت گردوں کے کئی لانچ پیڈ پر حملہ کیا جس میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ مسٹر پاریکر نے ٹویٹ کرکے کہا ’کامیاب آپریشن کیلئے ہندستانی فوج کو مبارکباد‘۔ واضح رہےکہ 18 ستمبر کو جموں و کشمیر کے اڑی سیکٹر میں دہشت گردانہ حملے میں 18 جوانوں کے شہید ہونے کے بعد ملک میں غصہ کا ماحول تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹرپاریکر نے کہا تھا کہ اس حملے کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہندستانی فوج نے کل رات سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں کے لانچ پیڈ پر کارروائی کی جس میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے۔


کانگریس نے فوجی کارروائی کی حمایت کی


وہیں، کانگریس نے جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار ہندوستانی فوج کی محدود فوجی کارروائی(سرجیکل اسٹرائیک)کی حمایت کرتے ہوئے آج کہا کہ پارٹی اس کی پوری حمایت کرتی ہے۔ کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹویٹ کیا’’ہم پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک کی دل سے حمایت کرتے ہیں۔ پارٹی فوج کی اس کارروائی کو سلام کرتی ہے۔‘‘

کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل نے بھی دہشت گردوں کے لانچ پیڈ پر فوج کی کارروائی کی حمایت کی اور کہا کہ اس میں کانگریس مکمل طورپر فوجی دستوں کے ساتھ ہے۔


فوجی کارروائی دراندازی روکنے کے لئے گی گئی: نائیڈو


دوسری طرف، اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر ایم وینکئیا نائیڈو نے آج کہا کہ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کی محدودفوجی کارروائی سرحد پار سے دراندازی روکنے کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔ فوج کی محدود فوجی کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے یہاں کہا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ مسلسل اچھے برتاؤ سے پیش آرہی ہے لیکن اس کے باوجود وہاں سے دہشت گردانہ دراندازی میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑی میں فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانیوں میں بے اطمینانی مسلسل بڑھتی جارہی تھی اور وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا ہے کہ ایسی حرکتیں بالکل برداشت نہیں کی جائیں گی۔


ملائم نے فوج کی تعریف کی، کہا پاکستان کو دیا جائے دو ٹوک جواب


سابق وزیراعلی ملائم  سنگھ یادو نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں آج ہندوستانی فوج کی کارروائی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دو ٹوک جواب دیا جانا چاہیے۔ مسٹر یادو نے وزیراعظم نریندر مودی کو مضبوطی سے قدم اٹھانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاملے میں سبھی سیاسی پارٹیاں ایک نظریہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج بہت بہادر ہے۔ پاکستان کو جواب دینا بخوبی جانتی ہے۔انہوں نے فوجی کارروائی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو جڑ سے مٹانے کےلئے ایسے ہی قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔ سماجوادی پارٹی(ایس پی)کے صدر مسٹر یادو نے کہا کہ اب تو پاکستان مقبوضہ کشمیر کو واپس لیا جانا چاہیے ۔ہماری فوج اس قابل ہے۔ یقین ہے کہ فوج آج کی طرح ہی صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھائےگی۔


کیجریوال نے فوجی کارروائی کا کیا خیر مقدم


 دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار دہشت گرد وں کےٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کی محدود کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ مسٹر کیجریوال نے فوج کی اس مہم پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، ’’بھارت ماتا کی جے۔ اس وقت پورا ملک ہندوستانی فوج کے ساتھ ہے‘‘۔ مسٹر کیجریوال کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں نے بھی فوج کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کی اس گھڑی میں پورا ملک اپنی فوج کے ساتھ ہے۔ ہندوستان کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔


First published: Sep 29, 2016 05:00 PM IST