உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: سیاست ، عدلیہ اور جمہوری قدریں، کون درست کرے گا نظام ؟

    جس انداز سے نفرت پر مبنی اشتعال انگیز بیانات دے کر ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے مقصد کو سمجھنا شاید اب کسی کے لئے بھی دشوار نہیں ۔۔

    جس انداز سے نفرت پر مبنی اشتعال انگیز بیانات دے کر ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے مقصد کو سمجھنا شاید اب کسی کے لئے بھی دشوار نہیں ۔۔

    جس انداز سے نفرت پر مبنی اشتعال انگیز بیانات دے کر ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے مقصد کو سمجھنا شاید اب کسی کے لئے بھی دشوار نہیں ۔۔

    • Share this:
    لکھنئو: ہندوستان جیسے جمہوری اور دستوری قدروں کے حامل ملک میں نفرت آمیز اور اشتعال انگیز تقریروں اور بیانات کے سلسلے نے امن پسند یکجہتی اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے دشواریاں پیدا کردی ہیں۔ رام راج اور ہندوراشٹر کے نام پر ملک کی صدیوں پرانی تہذیب اور تاریخ کو جس انداز سے داغدار کیا جارہا ہے اس کا تصور بھی محال ہے۔ بی جے ہی اقتدار والی مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر الزام لگائے جارہے ہیں ، تنقیدیں کی جارہی ہیں لیکن اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ اور تشدد کا سلسلہ منقطع نہیں ہورہا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی سطح پر دوہرے معیار اپنائے جارہے ہیں اور آئین و دستور اور قانونی ضابطوں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔

    حال میں دھرم سنسد کے نام پر جس انداز سے زہر افشانی شعلہ بیانی اور اشتعال انگیزی کی گئی وہ ملک کی یکجہتی اور اتحاد کے لئے ایک تازیانہ ہے نتیجہ یہ ہواہے کہ اب ملک کی کئی سربراہ اہم اور نمائندہ تنظیموں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ملک کی فعال و معروف تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے اس اشتعال انگیز تقریری سلسلے کو روکنے کے لئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے۔ ساتھ ہی بشمول مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ ( قدیم ) نے بھی اس ضمن میں عدالت کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعیۃ العلماء ہند کے قومی صدرمحمود مدنی نے ملک کے بدلتے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے سے لے کر اس کی تعمیر و تشکیل تک علماء نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں، لہٰذا اسے فرقہ پرست طاقتوں کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا ہم نے عدالت عظمیٰ کا رخ اسی لئے کیا ہے کہ ہمیں آج بھی ملک کے نظامِ عدل پر مکمل اعتماد ہے ۔دو روز قبل بریلی سے تعلق رکھنے والے مولانا توقیر رضا نے بھی اخوت اتحاد اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے اسی انداز کے بیان جاری کئے تھے ۔

    آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ ( قدیم ) کے بانی مولانا علی حسین قمی کہتےُہیں کہ سب کچھ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے اشارے اور پشت پناہی کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ اگر کوئی شخص مودی جی اور یوگی جی کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی ایک جملہ بول دیتا ہے تو اس کی فوری گرفتاری عمل میں آتی ہے اس افراد کے خاندان تک کو زد وکوب کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے کھلے عام قتل کی دھمکیاں دینے والے لوگ بے خوف و خطر منمانی کر رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی تو کیا پولس رپورٹ تک درج نہیں کرتی۔

    رام کے نام پر راون راج قائم کرنے کی کوشش میں فرقہ پرست اور نے متعصب لوگ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بھی لگا رہے ہیں اور تشدد بھی برپا کررہے ہیں لیکن ارباب اقتدار سے لے کر انتظامیہ کے افسران تک سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے جیسے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت سب کچھ کیا جارہاہو۔علماء کرام ایک طرف تو عدلیہ پر اعتماد کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب لوگوں سے یہ اپیل بھی کررہے ہیں کہ اپنے جمہوری غم حق کا استعمال دانشمندی سے کریں ایسی جماعت اور ایسے امید وار کو اپنا ووٹ دیں جو آپ کے مسائل بھی حل کرے اور ساتھ ہی ملک کی یکجہتی سالمیت اور اتحاد کے صادق جذبے بھی رکھتا ہو۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: