உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آلودگی سے پاک و صاف فضا ہی اچھی صحت کی ضامن ہوسکتی ہے، خدمتِ انسانیت ہے  شجر کاری

    روز افزوں بڑھتی کثافت آلودگی گھٹن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکڑوں بیماریاں بھی اگر ہمیں بیدار نہیں کر پارہی ہیں تو یہ جسنِ لینا چاہئے کہ ہم خود اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کررہے ہیں اگر پیڑ لگانے والے ہاتھ ہی پیڑ کاٹنے لگیں گے تو زندگی اجیرن ہوجائے گی۔

    روز افزوں بڑھتی کثافت آلودگی گھٹن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکڑوں بیماریاں بھی اگر ہمیں بیدار نہیں کر پارہی ہیں تو یہ جسنِ لینا چاہئے کہ ہم خود اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کررہے ہیں اگر پیڑ لگانے والے ہاتھ ہی پیڑ کاٹنے لگیں گے تو زندگی اجیرن ہوجائے گی۔

    روز افزوں بڑھتی کثافت آلودگی گھٹن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکڑوں بیماریاں بھی اگر ہمیں بیدار نہیں کر پارہی ہیں تو یہ جسنِ لینا چاہئے کہ ہم خود اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کررہے ہیں اگر پیڑ لگانے والے ہاتھ ہی پیڑ کاٹنے لگیں گے تو زندگی اجیرن ہوجائے گی۔

    • Share this:
    قدرتی سرمائے کو بچاکر ہی اپنے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکتا ہے زندگی کو با مقصد اور با معنی بنایا جاسکتا ہے ملک کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ساتھ ہی عوام کو آلودگی سے پاک زندگی دی جاسکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار لکھنئو کی معروف دانشگاہ انٹیگرل یونیورسٹی میں شجرکاری مہم کے دوران کیا گیا۔ پیڑ سرمایہءِ حیات ہیں ، نظامِ زندگی کی اساس ہیں عالمِ انسانیت کی ایسی بنیادی ضرورت ہیں جن کے بغیر خوبصورت اور پر سکون زندگی کا تصور بھی محال ہے اس لئے اس ، اس پیغام کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے بانی چانسلر سید پروفیسر وسیم اختر کی ہدایت پر یونیورسٹی میں خصوصی شجر جاری مہم شروع کی گئی۔

    شجر کاری مہم کے تحت انٹیگرل یونیورسٹی کے بوائز اور گرلز ہوسٹل کے اطراف شجرکاری کی گئی اس موقع پر معروف ماہر تعلیم پروفیسر منور عالم خالد ، ڈین اسٹوڈنٹ ویلفئر کی سربراہی اور دیگر اساتذہ کی قیادت و موجودگی میں ماحولیات کو بہتر بنانے اور اس مہم کو مسلسل جاری رکھ کر آلودگی کو کم کرنے کا عہد کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر منور عالم خالد نے واضح کیا کہ انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے پیڑوں کی پرورش اور نشو ونما بھی انسانوں کی طرح کی ہے پروفیسر سید وسیم اختر چاہتے ہیں کہ شجر کاری جیسی مہمیں اور تحریکیں چلتی رہنی چاہئیں کیونکہ صرف انسانی زندگی کے لئے ہی نہیں بلکہ چرند پرند اور کائنات کی بقا اور خوبصورتی کے لئے بھی پیڑوں کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔  انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کے اس مشن کو جاری رکھنے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے یونیورسٹی کے طلبا و اساتذہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    مہنگائی کا ایک جھٹکا، دہلی میں بڑھے PNG کے دام، IGL نے فی یونٹ میں 2.63 روپے کا کیا اضافہ

    RBI نے ریپو ریٹ میں پھر کیا 0.50 فیصد کا اضافہ، اب آپ پر کیا پڑے گا اثر

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت یونیورسٹی میں تعمیراتی کام کیا جارہا تھا اس وقت بھی پروفیسر سید وسیم اختر کی جانب سے پیڑ نہ کاٹنے اور پیڑوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی سخت ہدایات جاری گی گئی تھیں ۔ سنجیدہ غور وخوص اور مطالعے و مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیڑ صرف آکسیجن ، ادویات اور غزا کی فراہمی کے نظام میں ہی نیں بلکہ کسی بھی ملک و معاشرے کی مجموعی ترقی خوشحالی اور خوبصورتی کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس انداز کی تحریک کو بیداری مہم سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایسے اقدامات سے طلبا و طالبات میں خدمتِ خلق اور قدرتی سرمائے کو تحفظ فراہم کرنے کے بے لوث جذبے پیدا ہوتے ہیں لہٰذا اسے وسعت دینے کے لئے مہم کو بدستور جاری رکھا جائے گا اور آزادی کا امرت مہوتسو منانے کے دوران قرب و جوار کے علاقوں میں بھی پودے لگائے جائیں گے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: